39 بار درخواست مسترد ہونے کے بعد نوجوان کو بلآخر گوگل میں ملازمت مل گئی

فوٹو: غیر ملکی میڈیا

فوٹو: غیر ملکی میڈیا

ہر نوجوان چاہتا ہے کہ اسے اچھی سے اچھی نوکری ملے جس کے لیے وہ کافی محنت بھی کرتا ہے لیکن اکثر نوجوان اپنی پسند کی ملازمت نہ ملنے پر مایوس ہوکر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے نوجوان کے بارے میں بتا رہے ہیں جس نے اپنی پسند کی نوکری حاصل کرنے کیلئے مستقل مزاجی کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی نوجوان  ٹائلر کوہن کو مسلسل39 بار درخواست مسترد کیے جانے کے بعد بلآخر دنیا کی مشہور کمپنیوں میں سے ایک گوگل میں ملازمت مل ہی گئی۔  

اطلاعات کے مطابق گوگل میں ملازمت ملنے سے قبل کوہن امریکی شہر سان فرانسسکو کی ایک نجی کمپنی میں ایسوسی ایٹ مینیجر کے طور پر کام کرتے تھے۔

کوہن کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ کسی طرح گوگل میں ملازمت حاصل کریں جس کے لیے انہوں نے 25 اگست 2019 میں پہلی بار کمپنی میں اپلائی کیا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔پھر انہوں  نے ستمبر 2019 میں دو بار درخواست دی لیکن اس بار بھی نتیجہ وہی نکلا۔

بعد ازاں 2020 میں کورونا وبا کے دوران کوہن نے  پھر گوگل میں ملازمت کیلئے اپلائی کیا اور اس بار بھی ان کی درخواست مسترد کردی گئی اور یہ سلسلہ 2022 تک جاری رہا۔

کوہن نے ہمت نہیں ہاری اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا  اور یہی ان کی کامیابی کی وجہ بنا ،19جولائی 2022 کو انہیں بلآخر گوگل میں ملازمت مل گئی، پر اس دوران انہیں 39 بار کمپنی نے ری جیکٹ کیا۔ 

فوٹو: اسکرین شاٹ
فوٹو: اسکرین شاٹ

اپنی پسندیدہ نوکری حاصل کرنے کے اس سفر کو کوہن نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس پر صارفین نے ان کی مستقل مزاجی کو سراہا۔

تاہم دوسری جانب کچھ صارفین نے گوگل کی پالیسی پر بھی تنقید کی۔