نیٹ میٹرنگ سے حکومت کو اضافی بجلی فروخت کرنیوالے شہریوں کا بل بھی زیادہ آئے گا

فوٹو: فائل

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کا نیٹ میٹرنگ سے حکومت کو فروخت کی جانے والی اضافی بجلی کا فی یونٹ ریٹ 10 روپے 32 پیسے کم کرنےکا مجوزہ منصوبہ سامنے آگیا۔

دنیا بھر میں فرنس آئل اور ایل این جی سے بجلی کی پیداوار بہت مہنگی ہو چکی ہے، اسی لیے پاکستانی حکومت بھی سولر انرجی کو فروغ دینےکے لیے کوشاں ہے اور گھریلو صارفین کو بھی سولر سسٹم لگانےکی ترغیب دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب نیپرا نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حکومت کو اضافی بجلی کا فی یونٹ ریٹ 10 روپے 32 پیسے کم کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔

اس وقت ڈسکوز یہ بجلی خرید رہی ہیں 19 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے ریٹ پر اور ذرائع کے مطابق نیپرا یہ نرخ مقرر کرنا چاہتا ہے صرف 9 روپے فی یونٹ، یعنی 53 فیصد سے زائد کم، نیٹ میٹرنگ صارفین کو اضافی بجلی سرکار کو بیچنے پر نقد پیسے تو نہیں ملتے البتہ یہ ان کے بجلی بل میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں اور یوں ان کا بل عام صارفین کے مقابلے میں کافی کم آتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا کے مجوزہ منصوبے سے سولر سسٹم لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

نیپرا ذرائع کا مؤقف ہے کہ آئی پی پیز کے لیے شمسی توانائی سے بجلی پیداوار کا نیا ٹیرف ساڑھے تین سے چار سینٹس تک آچکا ہے اس لیے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے ڈسکوز جو بجلی خرید رہی ہیں اس کا 19روپے 32 پیسے فی یونٹ کا ٹیرف بہت زیادہ ہے اس کے علاوہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو لائسنس میں ٹیرف کے حوالے سے کوئی تحفظ بھی حاصل نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق نیپرا نے اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا اس کا نئے اور پرانے تمام نیٹ میٹرنگ صارفین پر اطلاق ہوگا۔

نیپرا نے اس حوالے سے عوامی آراء بھی طلب کر رکھی ہیں جن کے تناظر میں فیصلہ کیا جائے گا۔