جرمنی میں دنیا کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین سروس کا آغاز

اس سروس کو 60 میل کے ٹریک پر چلایا جائے گا / اے ایف پی فوٹو

جرمنی نے ہائیڈروجن پر چلنے والی دنیا کی پہلی ٹرین سروس متعارف کرائی ہے جس کا مقصد ماحول دوست ایندھن کو فروغ دینا ہے۔

اس سروس کے لیے 14 ٹرینیں فرانس کی کمپنی Alstom نے تیار کرکے جرمن ریاست Lower Saxony کو فراہم کی ہیں جو ڈیزل پر چلنے والی ٹرینوں کی جگہ لیں گی۔

یہ نئی ٹرینیں 60 میل کے ٹریک پر چلائی جائیں گی۔

Alstom کے پراجیکٹ منیجر اسٹیفن Schrank نے بتایا کہ یہ دنیا کی پہلی ٹرین سروس ہے جو ہائیڈروجن ایندھن پر سفر کرے گی۔

جرمنی میں اس وقت 20 فیصد ٹرینیں ڈیزل پر چلتی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی کو ان کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

نئی ٹرین کو Coradia iLint کا نام دیا گیا ہے۔

2018 سے 2 ہائیڈروجن ٹرینوں کو چلایا جارہا ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب پوری سروس کے لیے یہ انقلابی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

اس ٹرین کو فرانس کی ایک کمپنی نے تیار کیا / اے ایف پی فوٹو
اس ٹرین کو فرانس کی ایک کمپنی نے تیار کیا / اے ایف پی فوٹو

کمپنی کی جانب سے فرانس، جرمنی اور اٹلی کے لیے ان ٹرینوں کو تیار کیا جارہا ہے اور ایک تخمینے کے مطابق جرمنی میں ڈھائی سے 3 ہزار ڈیزل ٹرینوں کی جگہ ہائیڈروجن ماڈلز لیں گے۔

اس وقت یورپ میں ہر 2 میں سے ایک ٹرین ڈیزل پر چلائی جارہی ہے مگر ہائیڈروجن پر کام کرنے والے ماڈلز پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔

فرانس کی کمپنی کے ساتھ ساتھ جرمن کمپنی سیمنز کی جانب سے بھی ایک پروٹوٹائپ ہائیڈروجن کو مئی میں متعارف کرایا گیا جس کو 2024 میں باضابطہ طور پر مارکیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ہائیڈروجن کے ساتھ آکسیجن کا امتزاج کیا جاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے جو ٹرین کو چلایا جاتا ہے۔