یہ چاند نہیں تو کیا بتاسکتے ہیں کہ تصویر کس کی ہے؟

جاپانی لینڈر 11 دسمبر کو چاند کے سفر پر روانہ ہوا تھا / ٹوئٹر فوٹو
جاپانی لینڈر 11 دسمبر کو چاند کے سفر پر روانہ ہوا تھا / ٹوئٹر فوٹو

اوپر موجود تصویر کو دیکھیں اور بتائیں اس میں کیا دکھایا گیا ہے۔

بظاہر ہلال نظر آرہا ہے مگر دھوکا مت کھائیں کیونکہ یہ چاند نہیں ہے۔

تو کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟

اگر سمجھ نہیں آرہا تو جان لیں کہ یہ ہماری زمین کی تصویر ہے۔

جاپانی کمپنی آئی اسپیس نے 11 دسمبر کو اپنا پہلا لینڈر اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے چاند کی جانب روانہ کیا تھا۔

راکٹ سے علیحدہ ہونے کے 19 گھنٹے بعد جاپانی لینڈر نے زمین کی تصویر کھینچی جس میں وہ ہلال یا نئے چاند کی طرح نظر آرہی ہے۔

آئی اسپیس کے لینڈر پر متحدہ عرب امارات کا روور بھی موجود ہے۔

یہ لینڈر اور روور چاند پر اپریل 2023 میں لینڈ کریں گے یعنی ان کا سفر بہت سست رفتاری سے طے ہوگا، اس کے مقابلے میں ناسا کے آرٹیمس 1 مشن کو چاند پر پہنچنے کے لیے محض 5 دن لگے تھے۔

ویسے چاند پر اترنا بھی آسان نہیں کیونکہ ایسے ایک تہائی سے زیادہ مشنز ناکام رہتے ہیں۔

اب تک صرف امریکا، چین اور روس کے مشن ہی چاند پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر جاپان اور یو اے ای کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے۔

آئی اسپیس کا لینڈر چاند کی سطح سے گرد کو اکٹھا کرکے امریکی خلائی ادارے ناسا کو فروخت کرے گا۔