ہیلتھ کیئر کمیشن کیسے نتائج میں بہتری لاسکتا ہے؟

اضافی ایچ آر اور فنڈز کے بغیر بھی حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ فوٹو : فائل

اضافی ایچ آر اور فنڈز کے بغیر بھی حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ فوٹو : فائل

خیر و شر کی طرح کھرے اور کھوٹے کی موجودگی ہمیشہ سے انسانی سماج میں موجود رہی ہے۔ زندہ معاشروں کا خاصہ البتہ یہ ہے کہ وہ نہ تو کھوٹے کو کھرا سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کی تحسین یا پذیرائی کرتے ہیں بلکہ مقدور بھر کوشش کر کے اس کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

یہ دونوں رویے مجسم صورت میں تقریبا ہر اْس شعبہ زندگی میں پائے جاتے ہیں جہاں اداراتی دائرے سے باہر نکل کر نجی سطح پر ایک انسان کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

عموماً مہارت نہ ہونے کے باوجود ماہر اور سرٹیفائڈ ہونے کے ایسے دعوے داروں کے پاس اپنے مسائل کا حل تلاشنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں:

ایک وہ جو ماہرینِ فن کا معاوضہ اور خرچ پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

دوسرے وہ جو شعور نہیں رکھتے کہ ایسا کرنے سے وہ کن بھیانک نتائج سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں صحت کے شعبہ میں یہ صورت حال سب سے پریشان کن ہے۔ طب کی دنیا میں گائنی کے شعبہ میں بڑھتی ہوئی Quackery کے انسداد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے چند تجاویز پیش کرنا ہی آج ہمارا مقصد ہے۔

ان سے قبل مسئلہ کی سنگینی سمجھنے کے لیے اس سارے معاملہ کا ایک مختصر تعارف ضروری ہے جس میں Quacks عدم مہارت اور بغیر اجازت ہاتھ ڈالتے ہیں۔

حمل کا دورانیہ پورا ہونے پر وضع حمل میں اگر فطری طریقہ سے پیش رفت نہ ہورہی ہو تو گائناکالوجسٹ اپنے علم اور کلینیکل تجربے کی بنیاد پر مریض کی حالت کو دیکھتے ہوئے Induction اور Augmentation کے مصنوعی حل کی طرف جاتا ہے جو کبھی ادویات سے، کبھی سویپننگ اور کبھی کسی اور طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد ہونے والی ساری لیبر ہائی رسک قرار دی جاتی ہے جو پھر ون ٹو ون مانیٹر نگ کی متقاضی ہوتی ہے جیسے بچے کے دل کی دھڑکن کی مستقل مانیٹرنگ ، میکونیم کی موجودگی کو بروقت جان لینے کے لیے الٹراساؤنڈ کی پوری مہارت وغیرہ۔ کیونکہ کسی بھی وقت کسی ناخوشگوار پیش رفت یا failed induction کی بنا پر ایمرجنسی سی سیکشن کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ ماں اور بچے کی جان کو کسی بھی قسم کے خطرے سے بچایا جاسکے۔

جب تمام قرائن کو دیکھتے ہوئے مریضہ کو Augment یا Induce کر دیا جائے تو پھر اس کی مانیٹرنگ کے لیے آئیڈیل ایس او پیز یہ ہیں کہ اس میڈیکل سیٹ اپ پر گائناکالوجسٹ (یعنی سرجن) کے پاس آپریشن تھیٹر، انیستھیٹسٹ، پیرا میڈیکل سٹاف، لیبارٹری اور کراس میچ ہوکر خون کا عطیہ موجود ہو۔

اسی کے ساتھ Induction یا Augmentation کی وجہ سے آنے والا بچہ کسی ڈسٹریس میں جاسکتا ہے تو ایسے کسی ناخوشگوار معاملہ کو بروقت سنبھالنے کے لیے چائلڈ سپیشلسٹ اور نرسری کی دستیابی بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

یہ مضمون کو طوالت سے بچانے کے لیے صرف ایک خلاصہ کے طور پر چند باتیں ہیں:

اب Quacks کیا کرتے ہیں؟ مشہورِ زمانہ دائیاں، Traditional Birth Attendants لیڈی ہیلتھ وزیٹرز اور ورکرز ( ان دونوں کو سپیشلسٹ ڈاکٹر کی ڈومین میں داخل ہونے سے باقاعدہ منع کیا جاتا ہے یعنی انھیں ان کی لمٹس بتائی جاتی ہیں مگر عملاً اس کا خیال کم ہی کیا جاتا ہے ) اور مڈوائیوز ڈاکٹرز کے ساتھ اپنے تعامل کی وجہ سے جان چکی ہوتی ہیں کہ فلاں دوا (اس میں بھی وہ منظور شدہ مقدار سے کئی گنا زیادہ مقدار دے دیتی ہیں اور قسمت سے ناخوشگوار واقعہ نہ ہو تو باقاعدہ فخر کرتی ہیں کہ دیکھا ڈاکٹر کی نسبت کتنی جلدی معاملہ نبٹا دیا ہے ) یا کسی دوسرے طریقہ سے Induction یا Augmentation ہوسکتی ہے تو انھوں نے قانون کی مکمل گرفت اور خداخوفی کے نہ ہونے اور تھوڑے سے مالی فائدے کے پیچھے دو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اس سارے عمل کو ایک کھیل بنا لیا ہے۔

یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہے اور احتیاط کا متقاضی ہے کہ کبھی THQ لیول کے ہسپتال میں بھی کوئی مطلوبہ سہولت ( مثلاً کبھی انیستھیٹسٹ دستیاب نہیں یا کوئی اور وجہ) نہ ہونے سے مریضہ کو کسی بڑے ہسپتال ریفر کرنا پڑتا ہے تو کیسے عطائیوں کے ہاتھوں میں یہ معاملہ دیا جاسکتا ہے۔

ہسپتالوں میں عملاً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی بار مریضہ کے ساتھ Quack بھی لواحقین کے بھیس میں یا لواحقین کے ساتھ آئی ہوتی ہے کہ ڈاکٹر کے منہ سے کوئی ایسی بات ان تک نہ پہنچ جائے کہ مریضہ اس حال کو میری کارگزاری کی وجہ سے پہنچی ہے کیونکہ معاشرے میں ایسا تعارف پھیلنے سے اس کی کلائنٹیج متاثر ہوگی لیکن اس کے باوجود انھیں معلوم ہے کہ ان کی کرپشن پکڑنے کے لیے کوئی فول پروف سسٹم موجود نہیں ہے تو وہ بلا خوف یہ سب کر رہی ہیں۔

سرکاری اداروں میں وسائل کی کمی چونکہ ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ ہے تو اسی تناظر میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں تاکہ Quackery کے انسداد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی میں مزید بہتری آسکے۔

تجاویز

1 ۔ کسی سرکاری BHU’ RHC یا THQ میں آنے والی مریضہ کی حالت سے یہ تشخیص ہوجائے کہ وہ پہلے سے کسی عطائی (Quack) کے زیر علاج رہی ہے تو اس کی داخلہ پرچی پر اس Quack کا تعارف لکھا جائے اور کسی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق وہ معلومات کمیشن کے پاس جمع کروائی جائیں۔

2 ۔ سرکاری ہیلتھ فیسیلیٹیز کے ڈاکٹرز کے Key  Performance  Index میں یہ بات شامل کی جائے کہ اس تناظر میں وہ اپنے stats کو کس قدر ذمہ داری سے پر کرتے ہیں۔

3 ۔ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی پروموشن وغیرہ میں بھی یہ بات شامل کی جائے کہ ان کے زیر انتظام ادارے میں اس سلسلہ میں ریکارڈ کیپنگ کی صورت حال کیسی ہے۔

4 ۔ پیریفری سے جب ایمرجینسی اور پیچیدہ حالت والے مریض بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ریفر ہوتے ہیں تو وہاں بھی داخلہ پرچی میں یہ بات شامل کی جائے کہ یہ مریض اس حالت میں ریفر کرنے والے کسی چھوٹے سرکاری ہسپتال سے آیا ہے یا ان کے پاس کسی Quack نے اس حالت میں بھیجا تھا اس سے دوسطحی چیک اینڈ بیلنس بنے گا جسے چیٹ کرنا تقریبا ناممکن ہوجائے گا۔

5 ۔ تمام Unfavorable  Neonatal  Outcomes کا باقاعدہ آڈٹ ہو کہ ان میں سے کتنے فیصد کے پیچھے Quacks کی سوچی سمجھی malpractice تھی۔

6 ۔ بچے کی پیدائش کے مرحلہ پر Quacks کی طرف سے Induction یا Augmentation پر فوج داری سزا مقرر کی جائے۔

7 ۔ جب کبھی Quacks ایسا کرتے پکڑے جائیں تو علاقائی سطح پر ان کی سزا کی باقاعدہ تشہیر کی جائے۔