ہفتے میں 4 دن تک کام کے بڑے ٹرائل کے نتائج حوصلہ افزا قرار

اس ٹرائل کے نتائج 29 نومبر کو جاری ہوئے / فائل فوٹو
اس ٹرائل کے نتائج 29 نومبر کو جاری ہوئے / فائل فوٹو

4 روزہ کاروباری ہفتے کا بڑے پیمانے پر ہونے والا پہلا ٹرائل کامیاب ثابت ہوا اور اس میں شامل تمام کمپنیوں نے اس پر طویل عرصے تک عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئرلینڈ میں ہونے والا یہ ٹرائل جلد ختم ہورہا ہے مگر اس میں شامل تمام 33 کمپنیوں نے دوبارہ روایتی 5 روزہ کارباری ہفتے کو اپنانے سے انکار کیا ہے۔

اس ٹرائل کے ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرائل میں شامل کمپنیوں کی آمدنی اور ملازمین کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا جبکہ غیرحاضری کی شرح گھٹ گئی۔

Fórsa کے زیرتحت ہونے والے ٹرائل کی نگرانی یونیورسٹی کالج ڈبلن اور بوسٹن کالج کے ماہرین نے کی۔

محققین کے مطابق ٹرائل سے ثابت ہوا کہ 100 فیصد ملازمین کم اوقات تک کام جاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی شخصیت اور زندگی کا توازن بھی بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملازمین میں تناؤ، تھکاوٹ اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی آئی جبکہ نیند کا اوسط دورانیہ 7.02 گھنٹوں سے بڑھ کر 7.72 گھنٹے ہوگیا۔

اس ادارے کے تحت نیوزی لینڈ میں بھی 4 روزہ کاروباری ہفتے کا ٹرائل ہورہا ہے جس میں درجنوں کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

امریکا اور کینیڈا میں اس طرح کا ٹرائل اکتوبر میں شروع ہوا جبکہ یورپ اور جنوبی افریقا میں اس حوالے سے فروری سے کام شروع ہوگا۔

ہر ٹرائل میں محققین 4 روزہ کاروباری ہفتے کے اثرات کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا جائے گا۔

آئرلینڈ میں ٹرائل کے نتائج اس وقت سامنے آئے جب دنیا بھر میں کمپنیوں کو مالی مشکلات جبکہ ملازمین تناؤ اور تھکاوٹ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ٹرائل میں شامل کمپنیوں نے اس تجربے کو مجموعی طور پر 10 میں سے 9 اسکور دیا ہے اور محققین کے مطابق اس کے فوائد نمایاں ہیں۔

اس سے قبل آئس لینڈ میں 2015 سے 2019 کے دوران کاروباری ہفتے کا دورانیہ کم کرنے کا سب سے بڑا ٹرائل ہوا تھا جس میں ڈھائی ہزار ورکرز کو شامل کیا گیا تھا۔

اس ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی سے ورکرز کی پیداواری صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آتی جبکہ ملازمین کی شخصیت میں ڈرامائی بہتری آتی ہے۔

اسپین اور اسکاٹ لینڈ میں وہاں کی حکومتوں کے زیرتحت اس طرح کے ٹرائلز کا آغاز 2022 کے آخر تک ہورہا ہے۔

اسی طرح متعدد ممالک میں کاروباری ہفتے کا دورانیہ کم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، خاص طور پر کورونا کی وبا کے بعد سے۔