گاڑی کا سفر کرتے ہوئے کچھ افراد کو متلی اور سرچکرانے کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟

اس مسئلے کا سامنا متعدد افراد کو ہوتا ہے / فائل فوٹو
اس مسئلے کا سامنا متعدد افراد کو ہوتا ہے / فائل فوٹو

زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ایک عام مگر پراسرار بیماری کے شکار ہوتے ہیں جسے طبی زبان میں موشن سکنس کہا جاتا ہے۔

گاڑی، کشتی یا طیارے میں سفر کے دوران لوگوں کو متلی، قے، سر چکرانے اور دیگر مسائل کا سامنا ہو تو اسے موشن سکنس کی بیماری کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

کچھ افراد تو گاڑی میں بیٹھتے ہی (ڈرائیونگ نہیں بلکہ پسنجر سیٹ پر) خود کو بیمار محسوس کرنے لگتے ہیں، یعنی سر چکرانے لگتا ہے یا متلی کا احساس ہوتا ہے۔

اگر آپ بھی ان میں سے ہیں تو گاڑی میں سفر کے دوران متلی یا قے کی شکایت غیرمعمولی بات نہیں۔

پھر کچھ ایسے خوش قسمت افراد بھی ہیں جن کو اس قسم کی شکایت نہیں ہوتی، وہ گاڑی میں چاہے جہاں مرضی بیٹھ کر گھنٹوں سفر کریں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔

مگر یہ فرق کیوں؟ تو اس کا جواب ابھی تک کسی کو معلوم نہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق خواتین اور مائیگرین کے شکار افراد میں موشن سکنس کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہیں؟

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ ایک پراسرار بیماری ہے جس کی بنیادی وجہ کا علم نہیں مگر ماہرین نے کچھ ممکنہ وجوہات ضرور بتائی ہیں۔

ایک بات تو واضح ہے کہ موشن سکنس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب ہماری حسیں دماغ کو متضاد پیغامات بھیجتی ہیں۔

مثال کے طور پر آپ کسی جھولے میں بیٹھے ہیں جو اوپر نیچے گھوم رہا ہے تو ہماری آنکھیں ایک چیز کو دیکھتی ہیں، مسلز کسی اور چیز کو محسوس کرتے ہیں جبکہ اندرونی کان کو بالکل مختلف احساس ہوتا ہے۔

ہمارا دماغ ان متضاد سگنلز کو برداشت نہیں کرپاتا جس کا نتیجہ سر چکرانے یا متلی کی شکل میں نکلتا ہے۔

ماہرین کے خیال میں موشن سکنس کے مسئلے میں اندرونی کان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ توازن کے احساس کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اندرونی کان vestibular system نامی نیٹ ورک کا حصہ ہوتا ہے اور یہ سسٹم جسم کے اردگرد کے بارے میں تفصیلات دماغ کو بھیجتا ہے۔

ہمارا دماغ پورے جسم کے ڈیٹا کو اکٹھا کرکے قابل فہم بناتا ہے مگر کئی بار وہ گڑبڑا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر طیارے میں سفر کے دوران آپ کو حرکت کا احساس ہوتا ہے مگر ہماری آنکھیں دماغ کو بتاتی ہیں کہ آپ تو ایک جگہ رکے ہوئے ہیں۔

ایسا ہی دریا یا سمندر میں سفر کے دوران بھی ہوتا ہے، یعنی آپ تو خشک سطح پر ساکت کھڑے ہوتے ہیں مگر حرکت کا احساس ہورہا ہوتا ہے۔

گاڑی میں بھی ڈرائیور سے ہٹ کر دیگر نشستوں پر بیٹھنے والے کچھ افراد کو اس تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔

تینوں کا نتیجہ موشن سکنس کی شکل میں نکلتا ہے۔

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ ہر فرد کو موشن سکنس کا سامنا ہوسکتا ہے مگر بچوں اور حاملہ خواتین میں یہ زیادہ عام نظر آتا ہے۔

علامات

موشن سکنس میں ہاضمہ خراب ہوسکتا ہے جبکہ ٹھنڈے پسینے اور سرچکرانے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

جلد کی رنگت زرد ہونا، سردرد، متلی، قے اور توازن برقرار رکھنے میں مشکلات اس کی عام علامات ہیں۔

خطرہ بڑھانے والے عناصر

ہر طرح کے سفر یعنی گاڑی سے سڑک پر، کشتی سے پانی میں یا طیارے سے فضا میں سفر کے دوران اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کئی بار تو جھولوں سے بھی لوگوں کو اس بیماری کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

ادویات کے بغیر بچنا کیسے ممکن؟

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے مطابق ویسے تو بہترین حل موشن سکنس کا باعث بننے والے حالات سے بچنا ہے مگر سفر کرتے ہوئے ایسا کافی مشکل ہوتا ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق ان حالات میں چند عام طریقوں سے موشن سکنس کی شدت کو کم یا اس سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ طریقے درج ذیل ہیں۔

گاڑی یا بس کی اگلی نشست پر بیٹھنے کو ترجیح دیں۔

طیارے اور ٹرین میں کھڑکی کے ساتھ والی نشست کا انتخاب کریں۔

اگر ممکن ہو تو لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں۔

پانی کی مناسب مقدار کا استعمال کریں جبکہ چائے یا کافی سے گریز کریں۔

سفر سے قبل زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز کریں۔

تمباکو نوشی سے گریز کریں۔

مختلف سرگرمیوں جیسے موسیقی سن کر اپنے دھیان کو بھٹکائیں مگر مطالعہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔

گہری سانسیں لے کر خود کو پرسکون کریں یا آنکھیں بند کرکے 100 سے الٹی گننا شروع کردیں۔

کسی ساکت چیز کی جانب دیکھیں یعنی گاڑی سے آسمان کی جانب دیکھنا شروع کردیں۔

اگر ادرک موجود ہے تو اس کی معمولی مقدار کو چبانے سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔

پودینے کی مہک یا mint ٹافیوں کو سونگھنے سے بھی آرام مل سکتا ہے۔