کینسر کے تیزی سے پھیلنے کی ایک اہم وجہ دریافت

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

کینسر دنیا میں اموات کی وجہ بننے والا دوسرا بڑا مرض خیال کیا جاتا ہے اور اس کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ کو شناخت کیا گیا ہے۔

موٹاپا دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں میں کینسر کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں موٹاپے اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کی وضاحت کی گئی۔

بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل کی تحقیق میں بریسٹ کینسر پر توجہ مرکوز کی گئی تھی اور محققین نے ایسے شواہد فراہم کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ موٹاپے سے خوابیدہ رسولیوں تک خون کی فراہمی کا عمل شروع ہوجاتا ہے جس سے ان کی نشوونما ہونے لگتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ جب کسی رسولی تک خون پہنچنے لگتا ہے تو اس کی نشوونما تیز ہوجاتی ہے۔

اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے تھے اور محققین کو رئیل ٹائم میں رسولی کی نشوونما کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

اس کے بعد لیبارٹری میں تجربات کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ موٹاپے کے شکار چوہوں میں موجود چربی کے خلیات ایسے مرکبات کو زیادہ مقدار میں بناتے ہیں جو رسولیوں کو خوابیدہ پوزیشن سے باہر نکال کر متحرک کردیتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

اگست میں جرنل دی لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کینسر کی ایسی اقسام سے اموات کی شرح دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے جن کی روک تھام آسانی سے ممکن ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال یا زیادہ جسمانی وزن کینسر کا شکار بنانے والے 3 سب سے بڑے عناصر ہیں۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ عالمی سطح پر کینسر کے بیشتر کیسز کی روک تھام ممکن ہے جبکہ جلد تشخیص اور مؤثر علاج کے ذریعے بھی اموات کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ کینسر کے تمام کیسز یا اموات کی روک تھام ممکن نہیں مگر تمباکو نوشی اور الکحل سے گریز، صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنا، سورج کی روشنی میں بہت زیادہ گھومنے سے بچنا اور متوازن غذا سے اس موذی مرض کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔