کیا واقعی پھونک مارنے سے چائے یا کھانے کو ٹھنڈا کرنا ممکن ہے؟

کیا یہ طریقہ واقعی کام کرتا ہے یا نہیں / فائل فوٹو
کیا یہ طریقہ واقعی کام کرتا ہے یا نہیں / فائل فوٹو

چائے یا کوئی بھی گرم چیز کھانے یا پینے کے دوران اکثر افراد پھونک مارتے ہیں تاکہ منہ کو جلنے سے بچا سکیں۔

مگر کیا واقعی اس طرح پھونکنے سے چائے یا کافی وغیرہ ٹھنڈے ہوجاتے ہیں؟

ویسے یہ جان لیں کہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم چیز کو کھانے یا پینے سے منہ میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ 71 سینٹی گریڈ پر تو منہ فوری طور پر جل جاتا ہے۔

کھانے پینے کے دوران درجہ حرارت کے بارے میں جاننا تو ممکن نہیں ہوتا مگر کھانے یا مشروب سے خارج ہونے والی بھاپ سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ چیز کتنی گرم ہے جس کے باعث ہم لاشعوری طور پر انہیں کھانے یا پینے سے قبل پھونک مارتے ہیں۔

تو کیا اس سے واقعی چائے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یا بس گرم ہوا ہی دور ہوتی ہے مگر چائے گرم رہتی ہے؟

تو اس کا جواب ہے ہاں واقعی پھونک مارنا غذا یا مشروب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔

جب آپ پھونک مارتے ہیں تو آپ اپنے جسمانی درجہ حرارت کے قریب ہوا کو منہ سے خارج کرتے ہیں۔

ہمارے جسم کا اوسط درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور پھونک مارنے سے کپ یا پلیٹ کے اردگرد کی ہوا ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔

اس ایک مثال یہ ہے کہ کسی گرم کمرے میں چائے کا کپ ہاتھ میں ہو تو اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔

مگر وہی کپ کسی معتدل درجہ حرارت والے کمرے میں ہو تو وہ بہت جلد ٹھنڈا ہوجائے گا۔

جب آپ پھونک مارتے ہیں تو آپ درحقیقت بخارات کے ذریعے اس غذا یا مشروب کو ٹھنڈا کررہے ہوتے ہیں۔

ہم سانس کے ذریعے پانی کے بخارات کو گرم پلیٹ یا کپ کی سطح سے دور دھکیل دیتے ہیں جس سے مزید پانی کے مالیکیولز بخارات بن جاتے ہیں۔

یہ طریقہ کار مشروبات کو زیادہ جلد ٹھنڈا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے جبکہ ٹھوس غذا کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

غذا یا مشروب جتنے گرم ہوں گے پھونک سے انہیں ٹھنڈا کرنا اتنا آسان ہوگا، جبکہ معمولی گرم چیز پر یہ طریقہ کار زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔