کوڑھ یعنی جزام

 برصغیر پاک و ہند میں کوڑھیوں کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ فوٹو : فائل

 برصغیر پاک و ہند میں کوڑھیوں کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ فوٹو : فائل

جزام جسے عام زبان میں کوڑھ بھی کہا جاتا ہے، ایک متعدی یا چھوت کا یعنی ایک سے دوسرے کو لگنے والا مرض (Infectious Disease) ہے جو ایک جراثیم جس کو مائیکو بیکٹیریم جزام (Mycobacterium Leprae) کہتے ہیں ، اس کی وجہ سے کوڑھ کا مرض پیدا ہوتاہے۔

جیسا کہ سطور بالا میں بتایا جا چکا ہے کہ کوڑھ یا جزام ایک متعدی مرض ہے، اس میں مریض کے ہاتھ ، پاؤں اور انگلیوں وغیرہ کے جوڑوں میں ورم ہو کر پیپ پڑ جاتی ہے اور بعض اوقات ہاتھ ، پاؤں اور انگلیوں کے پور جھڑ جاتے ہیں اور مریض لولا لنگڑا ہو جاتا ہے، یوں مریض کی شکل بڑی گھناؤنی ہو جاتی ہے۔

پاکستان ، بھارت اور چین میں اس بیماری کا بڑا زور ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں کوڑھیوں کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ کوڑھ کے مرض میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے، جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔ کوڑھی کے جسم سے شدید بدبو بھی آتی ہے۔مریض اپنے اعضا کو بچانے کے لیے ہاتھوں، ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔

جزام کا جراثیم تعفنپیدا کرکے جاندار کے جسم کی جلد ، چہرے اور دیگر حصوں پر بدنمائی اور خراب شکل کا موجب بنتا ہے۔ یہ جزام کا انسانی ذہن پر سب سے زیادہ خوف پیدا کرنے والا پہلو ہے۔ جزام کا موجب بننے والے جراثیم کا انکشاف سب سے پہلے مشہور نارویجن ماہر گرہارڈ آرمر ہنسن( Gerhard Armauer Hansen ) نے کیا تھا اور اس کی مناسبت سے جزام کو ہانسینس بیماری بھی کہا جاتا ہے۔

اسباب مرض

اس مرض کا باعث بھی ایک خاص قسم کا کرم مانا گیا ہے جسے ڈاکٹری اصطلاح میں Baccilus Leprosy یعنی جرثومہ جزام (کوڑھ کا کیڑا ) کہتے ہیں۔ یہ کیڑا مریض کے زخموں میں پایا جاتا ہے۔ اس مرض کی چھوت بیمار سے تندرست کو لگ جاتی ہے۔

درحقیقت یہ نہایت چھوت دار بیماری ہے۔ مریض کے کپڑوں کے ذریعے بھی اس بیماری کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ آتشگی مریض اس مرض میں اکثر مبتلا ہوا کرتے ہیں۔ غریب اور مفلس جو غلیظ اور کثیف رہتے ہیں، اکثر اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ جو لوگ خشک اور سڑی ہوئی مچھلی کھاتے ہیں اس مرض میں اکثر مبتلا ہوتے ہیں۔

علامات و اشارات

اس جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ عام طور پر سانس ہوتا ہے۔ ایک دائمی انفیکشن (chronic infection) یعنی سادہ الفاظ میں ایک دیرینہ یا دائمی جراثیمی مرض ہے۔ جلد پر ہلکی رنگت والے بے حس دھبے یا ورم جو یہ سل نما (Tuberculoed) جزام کی صورت میں بے حس ہوسکتے ہیں۔ سل کو عام طور پر ٹی بی کا مرض کہتے ہیں۔

مریض کے جسم پر بعض مقامات پر سرخ دھبے یا داغ پڑ جاتے ہیں۔ آخر ان مقامات پر چھوٹی چھوٹی گٹھلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ گٹھلیاں چہرے پر زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ ابروؤں، پلکوں اور مونچھوں کے بال گر جاتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ یہ گٹھلیاں نرم ہو کر پھوٹ پڑتی ہیں اور ان میں سے بدبودار مواد نکلتا ہے جس سے مریض کی شکل بڑی مہیب ہو جاتی ہے۔

جب مرض کا بہت زور ہو تو ناک کی ہڈی گل کر ناک بیٹھ جاتی ہے۔ گلے میں زخم پڑ کر کھانا پینا اور بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بالآخر نمونیہ یا کھانسی وغیرہ کے امراض میں مریض مبتلا ہو کر انتقال کر جاتا ہے یا پھر یہ دھبے جزام نما (Lepromatous) جزام میں اپنے اندر گردش خون کی وجہ سے سرخ ہو جاتے ہیں۔

اس لیے انھیں حمرۃ الجلائی یا انگریزی میں Erythematous کہا جاتا ہے۔ اعصاب کا متاثر ہوتے چلے جانا، یہ عمل اوپر بیان کردہ سل نما جزام کی صورت میں تیز اور جزام نما جزام کی صورت میں انتہائی سست رفتار ہوتا ہے۔

بے حس کرنے والے جزام (Anesthetic leprosy  ) کی ابتدائی علامات

جوڑوں میں درد کا ہونا اور ماؤف مقام کے بے حس و سن ہو جانا ہے۔ عموماً چہرہ، سینہ اور ہاتھ پاؤں پر بھورے رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ مقامات بے حس و سن ہو جاتے ہیں۔ اگر وہاں پر سوئی چبھوئیں یا انگارہ رکھ دیں تب بھی مریض کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔

پھر ان مقامات پر آبلے پڑ جاتے ہیں اور وہ آبلے پھوٹ کر زخم بن جاتے ہیں اور مریض سے سخت بدبو آتی ہے۔ آخر کار مریض مرض اسہال وغیرہ میں مبتلا ہو کر راہی ملک عدم ہو جاتا ہے۔ جلدی جائزہ (Skin Test) لیا جائے تو جزام نما کی صورت میں تو مرض کی شہادت مل جاتی ہے اور Test کو مثبت کہا جاتا ہے مگر سل نما کی صورت میں مرض کی شہادت اکثر نہیں ملتی اور ایسی صورت میں Test کو منفی کہا جاتا ہے ۔عام طور پر اگر کوئی شخص ماضی میں اس بیماری سے متاثرہ علاقے یعنی متوطن میں رہنے کی شہادت بھی ملتی ہے۔

جزام نما بیماری ان افراد میں بکثرت ہوتی ہے جن میں قوت مدافعت کی کمی ہو اور ایسی صورت میں test کرنے سے جراثیم کی ایک بڑی تعداد ملتی ہے جبکہ سل نما بیماری کی صورت میں جراثیم تناسب کم ملتا ہے۔

جزام کا مرض انسانی جسم کے پٹھوں اور دیگر بافتوں میں پھیلتا ہے اور غیر محسوس انداز میں اعصابی نظام کے اہم خلیوں کی کارکردگی کی نئے سرے سے پروگرامنگ کردیتا ہے۔ جزام کے مرض کی وجہ سے اس کے مریضوں کے جسم کی معمول کے ہیئت اکثر اس طرح تبدیل ہو جاتی ہے کہ اعضا بدنما اور ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔

برطانیہ میں ریسرچ کے مطابق جزام یا Leprosy کا سبب بننے والا طفیلی جرثومہ انسانی جسم کے اعصابی نظام کے ان خلیوں اور ان کی کارکردگی کو بڑے نپے تلے انداز میں ہائی جیک کرلیتاہے جو Schwann Cells کہلاتے ہیں۔

انسانی جسم کے نروس سسٹم میں Schwann Cells خلیات کو کہتے ہیں جو بنیادی طور پر زیادہ چربی والی ایسی اکائیاں ہوتی ہیں جنھوں نے اعصابی خلیوں کو اپنے حفاظتی حصار میں لیا ہوتا ہے۔ یہ چکنے خلیے ان اعصابی خلیات کے لیے انسولیشن کا کام کرتے ہیں جن سے گزرنے والے برقی پیغامات کی مدد سے اعصابی ڈھانچوں کو مختلف احکامات پہنچائے جاتے ہیں۔

جزام کی بیماری کا سبب بننے والا Mycobacteruim جرثومہ Schwann Cells کو تبدیل کردیتا ہے اور یہ دوبارہ ابتدائی اور خستہ حالت میں لے آتا ہے۔

مائیکو بیکٹیریم لیپروزا یہ کام ان جینز کی کارکردگی کو متاثر کر دینے کے ذریعے کرتا ہے جو شوان سیلز کی نشوونما والی بالغ حالت میں کارکردگی کی نگرانی کرتے ہیں ساتھ ہی یہ جرثومہ ان اعصابی خلیات میں ان جینز کو فعال بنا دیتا ہے جو ابتدائی اور کمزور حالت میں Nerve Cells کی کارکردگی کے ذمے دار ہوتے ہیں۔

علاج، ادویات

(1)۔بینی لائینم

(2)۔ویکسی نائیٹم

(3)۔میلنڈرینم

(4)۔تھاراڈیم

(5)۔ اناکارڈیم

(6)۔آرسینی کم آیوڈائیڈ

(7)۔گریفائیٹس

یہ سب دوائیں علامات کے حساب سے کام آتی ہیں لیکن سب سے اعلیٰ دوائی اس مرض کی ہائیڈوکوٹائیلC ہے۔

ضروری ہدایات

(1)۔کوڑھی تندرست اشخاص سے بالکل علیحدہ رہے اور کھلی ہوا میں رکھا جاتا ہے۔

(2)۔اس کے تمام اخراجات کو ایسی جگہ پھینکوانا چاہیے جہاں دوسرے لوگ نہ جاتے ہوں۔

(3)۔  پٹی باندھ کر رکھیں تاکہ مواد نہ گرے۔

(4)۔اس کا جھوٹا نہ کھانا چاہیے اور نہ ہی پینا چاہیے، اسے آبادی سے الگ ویران جگہ پر رکھنا چاہیے تاکہ مرض نہ پھیلے۔