کووڈ 19 کے بعد مریضوں کو بالوں سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

اگر آپ ماضی میں کووڈ 19 سے متاثر ہوئے اور اس بیماری سے صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے، مگر  پھر اچانک بال بہت تیزی سے گرنے لگے ہیں تو یہ لانگ کووڈ کی نشانی ہوسکتی ہے۔

لانگ کووڈ کی اصطلاح ایسے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کووڈ کو شکست دینے کے بعد بھی کئی ہفتوں یا مہینوں تک مختلف علامات کا سامنا کرتے ہیں۔

اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بیماری کے بعد بالوں کا گرنا بھی لانگ کووڈ کی علامات کا حصہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بیماری کے دوران سونگھنے کی حس سے محرومی، سانس لینے میں مشکلات اور سینے میں تکلیف جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ روزمرہ کے کام بھی مشکل ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نظام تنفس، ذہنی صحت اور دماغی مسائل کے ساتھ ساتھ متعدد اقسام کی علامات کا سامنا مریضوں کو بیماری سے صحتیابی کے بعد ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ خواتین اور نوجوانوں میں بیماری کے بعد لانگ کووڈ کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح موٹاپے کے شکار، کم آمدنی والے اور تمباکو نوشی کے عادی افراد کو بھی کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شامل ہارون نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ لانگ کووڈ کی علامات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اب تک ہم اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو دریافت نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ علامات کی شناخت سے طبی ماہرین مریضوں کا زیادہ بہتر تجزیہ کرسکیں گے اور فیصلہ کرسکیں گے کہ کس طرح ان علامات کی روک تھام کی جانی چاہیے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر افراد کی جانب سے ابتدائی بیمار ی کے 12 ہفتوں بعد 62 علامات کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے لیے 24 لاکھ افراد کے الیکٹرونک ہیلتھ ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

یہ ڈیٹا جنوری 2020 سے اپریل 2021 کا تھا اور 24 لاکھ میں سے 4 لاکھ 86 ہزار 149 افراد کووڈ کا سامنا کرچکے تھے جبکہ باقی اس وقت تک کووڈ سے محفوظ تھے۔

مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر ماہرین 3 اقسام کی مختلف المعیاد علامات کو شناخت کرنے میں کامیاب رہے۔

محققین نے بتایا کہ ہمارے ڈیٹا کے تجزیہ سے لوگوں میں لانگ کووڈ کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو کووڈ کے بعد آٹو امیون امراض کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے، جس کو دیکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین میں اس خطرے کی وجوہات کو جاننے پر کام کیا جائے۔

اس تحقیق کے نتائج نیچر میڈیسین میں شائع ہوئے۔