کووڈ کے ڈر سے 3 سال تک خود کو ایک کمرے میں بند رکھنے والی ماں بیٹی

یہ واقعہ بھارت میں سامنے آیا / اے پی فوٹو
یہ واقعہ بھارت میں سامنے آیا / اے پی فوٹو

کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خیال سے خوفزدہ ماں اور بیٹی نے خود کو 3 سال تک ایک کمرے میں قید رکھا اور انہیں اب جاکر وہاں سے زبردستی نکالا گیا۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے Kuyyeru سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ کرنیڈی مانی اور اس کی 21 سالہ بیٹی درگا بھوانی کو پولیس اور طبی عملے نے گھر سے باہر نکالا۔

ان دونوں کو نکالنے کی درخواست کرنیڈی مانی کے شوہر سوری بابو نے کی تھی۔

شوہر کی جانب سے یہ درخواست اس وقت کی گئی جب کئی ماہ تک کرنیڈی مانی نے سوری بابو کو دیکھنے سے بھی انکار کیا۔

پولیس اور دیگر افراد کئی گھنٹوں تک دونوں سے باہر آنے کی ناکام درخواست کرتے رہے اور پھر دروازہ توڑ کر ماں اور بیٹی کو باہر نکالا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں خواتین نے باہر نکالنے پر شدید مزاحمت کی۔

بعد ازاں ان دونوں کو مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کا جسمانی اور ذہنی معائنہ کیا گیا۔

حکام کے مطابق دونوں خواتین ایک دائمی مرض کا شکار تھیں اور اسی وجہ سے عجیب رویے کا مظاہرہ کررہی تھیں۔

سوری بابو کے مطابق ان کی بیوی شیزو فرینیا کی شکار تھی اور جب کورونا کی وبا کے آغاز میں فیس ماسک پہننے اور گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی تو وہ عجیب رویے کا مظاہرہ کرنے لگی۔

دونوں نے خود کو کمرے کے اندر بند کرلیا تاکہ کووڈ سے بچ سکیں جبکہ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ کوئی کالے جادو سے انہیں مارنا چاہتا ہے۔