کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

کورونا وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات جنوبی افریقا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

افریقا ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں ایک ایسے فرد کے کووڈ 19 کے نمونوں کا تجزیہ 6 ماہ تک کیا گیا جس کا مدافعتی نظام بہت کمزور تھا۔

تحقیق سے عندیہ ملا کہ مستقبل قریب میں کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ سنگین بیماری کا باعث بننے والی ہوسکتی ہے۔

یہ تحقیق اسی لیبارٹری میں ہوئی جہاں 2021 میں سب سے پہلے کورونا کی بہت زیادہ متعدی قسم اومیکرون کو شناخت کیا گیا تھا۔

اس تحقیق میں ایچ آئی وی کے ایک ایسے مریض کو شامل کیا گیا تھا جس میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے نمونوں کا تجزیہ 6 ماہ تک کیا گیا۔

6 ماہ تک وائرس سے خلیات کو پہنچنے والا نقصان اسی طرح کا تھا جیسا اومیکرون بی اے 1 قسم میں دیکھنے میں آیا تھا، مگر ارتقائی مراحل سے گزرنے کے دوران یہ وائرس کورونا وائرس کی ابتدائی قسم جیسا ہوگیا جس کو چین کے شہر ووہان میں شناخت کیا گیا تھا۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس مسلسل خود کو بدل رہا ہے اور اس کی مستقبل قریب میں ایک نئی قسم اومیکرون کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس میں صرف ایک فرد کے نمونوں کی جانچ پڑتال لیبارٹری میں کی گئی تھی۔

ان محققین نے ہی ماضی میں بتایا کہ کورونا وائرس کی اقسام beta اور اومیکرون دونوں ممکنہ طور پر ایچ آئی وی سے متاثر افراد میں بن کر پھیلنا شروع ہوئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ وائرس کو جتنا زیادہ وقت کسی کمزور مدافعتی نظام کے مالک فرد کے اندر رہنے کا موقع ملے گا، اس کے بدلنے کا امکان اتنا زیادہ ہوتا ہے۔