کمزور بصارت میں غائب اجسام ظاہر کرنے والی عینک

سام سنگ کے مالی تعاون سے بنایا گیا آرگس چشمہ بصارت کے ایک بڑے نقص کو دور کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ سیلولِک ٹیکنالوجی

سام سنگ کے مالی تعاون سے بنایا گیا آرگس چشمہ بصارت کے ایک بڑے نقص کو دور کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ سیلولِک ٹیکنالوجی

جنوبی کوریا: آنکھوں کے نیم اندھے پن میں یہ ہوتا ہے کہ سامنے کے منظر میں بعض اشیا دکھائی نہیں دیتیں اور وہاں سیاہ دھبہ سا دکھائی دیتا ہے۔ اس کیفیت کو دور کرنے کے لیے ایک ورچول ریئلٹی عینک بنائی گئی ہے۔

آرگس نامی عینک ورچول ریئلٹی کے تحت کام کرتی ہے اور بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں ایک عام کیفیت، ’ایج ریلیٹڈ میکیولر ڈی جنریشن‘ میں یہ ہوتا ہے کہ سامنے کا منظر پورا دکھائی نہیں دیتا، دھندلا ہوتا ہے یا ایک حصہ بالکل ہی غائب ہوجاتا ہے۔ آرگس گلاسس کا سافٹ ویئر اس غائب شدہ یا دھندلے حصے کو نمایاں کرکے ظاہر کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے سال اسے کنزیومر الیکٹرانکس شو میں پیش کیا جائے گا جسے جنوبی کوریا کی کمپنی سیلیکو نے بنایا ہے اور رقم سام سنگ کارپوریشن نے فراہم کی ہے۔

اس میں ایک چھوٹا فورکے کیمرہ نصب ہے جو پہننے والے کے سامنے کا بھرپور عکس یا ویڈیو لیتا ہے۔ پھر اس منظر کو اسی وقت عینک میں لگے ڈسپلے میں ظاہرکیا جاتا ہے جو حقیقی انداز میں دیکھنے والے کے نظر کے دائرے میں آجاتا ہے۔۔ اس طرح پہننے والا اسے 1080 پکسل وضاحت میں دیکھ سکتا ہے۔

ایک ایپ کے ذریعے اسے اسمارٹ فون سے بھی منسلک کیا جاسکتا ہے جس کی بدولت مریض جان سکتے ہیں کہ ان کے پردہ بصارت کا کونسا حصہ متاثر ہے۔ اسی وجہ سے وہ آواز کے طور پر اس غائب منظر کو اس جگہ لے جاسکتے ہیں جہاں سے انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ پہننے والا صرف آواز کے حکم پر ویڈیو کو زوم کرسکتا ہے۔

پالیمر ڈسپرسڈ لکوئیڈ کرسٹل کی ایک باریک پرت عینک پر لگی ہے جو روشنی کم یا زیادہ ہونے پر ازخود اسے ایڈجسٹ کرتی ہے۔ تمام خواص کی بنا پر اس عینک کا وزن صرف 94 گرام ہے۔