کئی بار ہماری آنکھوں کے سامنے یہ عجیب ‘کیڑے’ کیوں ناچنے لگتے ہیں؟

اس تجربے میں ننھے کیڑوں جیسا اسٹرکچر حرکت کرتا نظر آتا ہے / فائل فوٹو
اس تجربے میں ننھے کیڑوں جیسا اسٹرکچر حرکت کرتا نظر آتا ہے / فائل فوٹو

کیا کبھی آپ کو اس کا تجربہ ہوا ہے کہ کسی چیز کو دیکھتے ہوئے اچانک آنکھوں کے سامنے عجیب ‘کیڑے’ ناچنا شروع ہوگئے؟

ہوسکتا ہے کہ آپ کو یقین نہ آئے مگر بینائی رکھنے والے 76 فیصد افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے جسے فلوٹرز کہا جاتا ہے۔

اس تجربے میں آنکھوں کے سامنے ننھے کیڑوں جیسا اسٹرکچر حرکت کرتا نظر آتا ہے۔

کئی بار ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی روشن اور ہم آہنگ یا ہموار چیز جیسے آسمان، برف یا سفید اسکرین کو کچھ دیر دیکھتے ہیں۔

اسے سائنسی زبان میں Muscae volitantes یا فلائنگ فلائیز کہا جاتا ہے مگر یہ ‘کیڑے’ آپ کی نظروں کا دھوکا نہیں ہوتے بلکہ وہ حقیقت میں موجود ہوتے ہیں اور آنکھوں کے اندر حرکت کررہے ہوتے ہیں۔

آپ کی آنکھوں کے سامنے قرنیہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پتلی ہوتی ہے جس کے پیچھے aqueous humour ہوتا ہے جو بنیادی طور پر سیال کا چھوٹا سا ذخیرہ ہوتا ہے جس میں ٹشو، خون کے سرخ خلیات یا پروٹین کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔

یہ جیل جیسا سیال ہوتا ہے جو عدسے اور پردہ چشم کے درمیان ہوتا ہے۔

آنکھوں میں روشنی عدسے کے ذریعے داخل ہوتی ہے اور پردہ چشم کے مخصوص خلیات کو متحرک کردیتی ہے۔

اس عمل کے دوران کئی بار جیل نما سیال میں موجود ذرات یا فلائنگ فلائیز پردہ چشم پر سایہ ڈال دیتے ہیں۔

ایسا کرنے سے عجیب کیڑوں جیسی تصاویر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔

عام طور پر یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا اور اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ چند سیکنڈ بعد ہی یہ ‘کیڑے’ غائب بھی ہوجاتے ہیں۔