چین میں کووڈ کی صورتحال کے باعث عالمی ایمرجنسی جلد ختم نہ ہونے کا امکان

چین میں حالیہ دنوں میں کووڈ کیسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے / رائٹرز فوٹو
چین میں حالیہ دنوں میں کووڈ کیسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے / رائٹرز فوٹو

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین اور متعدد اہم سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چین میں کووڈ 19 کی تباہ کن لہر کے باعث عالمی ایمرجنسی کی حیثیت کا جلد خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔

ماہرین نے اس رائے کا اظہار اس وقت کیا جب چین کی جانب سے عوامی احتجاج کے بعد زیرو کووڈ پالیسی کو گزشتہ دنوں ختم کردیا گیا تھا۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ زیرو کووڈ پالیسی کو اچانک تبدیل کیے جانے سے چین میں 2023 میں 10 لاکھ سے زیادہ اموات اس بیماری کے نتیجے میں ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ چین کی زیرو کووڈ پالیسی نے ایک ارب 40 کروڑ آبادی والے اس ملک میں نئے کیسز اور اموات کو کم رکھنے میں مدد فراہم کی، مگر پابندیوں میں نرمی نے عالمی منظرنامے کو بھی تبدیل کردیا۔

عالمی ادارہ صحت کے کووڈ ایمرجنسی کمیٹی کی رکن ماریون کوپمانز نے بتایا کہ سوال یہ ہے کہ جب دنیا کا ایک اہم ترین حصہ ابھی کووڈ کی دوسری لہر میں داخل ہوا ہے تو ایسی صورتحال کو ہم وبا کے اختتام کا کہہ سکتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہم اس وقت وبا کے اختتامی مراحل سے گزر رہے ہیں، مگر ہمارے خیال میں چین میں وبا کی حالیہ لہر وائلڈ کارڈ ثابت ہوسکتی ہے۔

ستمبر 2022 میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے کہا تھا کہ وبا کا اختتام نظر آرہا ہے۔

گزشتہ ہفتے انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ 2023 میں کسی وقت عالمی ایمرجنسی ختم ہوجائے گی۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں 2022 کے دوران کووڈ پابندیوں کو ختم کردیا گیا کیونکہ کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔

عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی کی جانب سے ایمرجنسی الرٹ لیول کے حوالے سے سفارشات جنوری 2023 کے آخر میں دی جائیں گی۔

20 دسمبر کو چین میں کووڈ سے 5 اموات کو رپورٹ کیا گیا تھا جبکہ 21 دسمبر کو کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔

عالمی ماہرین کا انتباہ

واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے کووڈ کی روک تھام کے لیے لگائی جانے والی متعدد پابندیوں کو ختم کیے جانے کے بعد 2023 کے دوران چین میں کووڈ سے 10 لاکھ سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ آئندہ چند ماہ چین کے لیے کافی مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔

دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر چین میں وائرس کا پھیلاؤ اسی طرح ہوتا رہا ہے تو وہ جینیاتی طور پر تبدیل ہوکر زیادہ خطرناک قسم کی شکل میں ابھر سکتا ہے۔

امپرئیل کالج لندن کے ماہر ٹام پیکاک نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ چین میں حالیہ لہر کورونا وائرس کی کسی قسم کا نتیجہ ہے یا پابندیاں ختم ہونے کے بعد ملنے والی آزادی سے ایسا ہوا۔