چین میں تیزی سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز بھارت میں دریافت

کورونا کی اس قسم کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے / فائل فوٹو
کورونا کی اس قسم کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے / فائل فوٹو

چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی نئی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

اومیکرون بی ایف 7 نامی کووڈ ویرینٹ کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے۔

کووڈ کی اسی قسم کے 4 کیسز اب تک بھارت میں بھی سامنے آچکے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں کورونا وائرس کے10 ویرینٹس موجود ہیں، جس کے باعث بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن نے عوام کو کووڈ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کورونا کی اس نئی قسم کے کیسز دریافت ہونے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی طرح کورونا کی نئی اقسام کی مانیٹرنگ کو بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو کورونا کے مثبت کیسز کیے جینیاتی تجزیے کاحکم دیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے 22 دسمبر کو ایک اجلاس میں کووڈ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی طرح اترپردیش اور پنجابسمیت متعدد ریاستوں میں کورونا کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔

22 دسمبر سے بیرون ملک سے بھارت پہنچنے والے مسافروں کےکورونا ٹیسٹ کیےجائیں گے، یہ پابندی پہلے ختم کردی گئی تھی۔

بھارت کی جانب سے 22 دسمبر کو 185 نئے کووڈ کیسز کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کورونا کی اس نئی قسم میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق بی ایف 7 سے متاثر فرد اپنے اردگرد 10 سے 18 افراد کو اس بیماری کا شکار بناسکتا ہے۔