یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

فوٹو:یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں

فوٹو:یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں کروڑوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 53 کروڑ 20 لاکھ روپے کے تعمیراتی منصوبے کا ٹھیکا غیر منصفانہ طریقے سے دیا گیا جبکہ ٹھیکیدار کو رقم کی پیشگی ادائیگی اور ٹیکس کی عدم کٹوتی کے باعث خزانے کو 92 کروڑ 76 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کا کنسلٹنسی سروسز کا معاہدہ غیر منصفانہ طریقے سے کیا گیا، طلبا سے 13 کروڑ 56 لاکھ روپے کی فیسوں کی ریکوری نہیں کی گئی جبکہ کینٹین اور دکانوں سے کرایوں کی مد میں 72 لاکھ روپے کی وصولی بھی نہیں کی گئی۔ 

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ٹھیکیدار نے پرفارمنس سکیورٹی 14 دن کی مقررہ مدت میں جمع نہیں کرائی جبکہ تعلیمی سال 15-2011 میں طلبا کو ٹیوشن اور امتحانی فیس کی رقم واجب الادا ہے جس کے باعث یونیورسٹی کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ طلبا سے فیس، کینٹین اور دکانوں سے کرایوں کی وصولی کی جائے۔ اس حوالے سے جامعہ بنوں کے ترجمان نے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ آڈٹ رپورٹ ابتدائی مراحل میں ہے۔یونیورسٹی کی ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس اکتوبر میں ہوگا۔

یونیورسٹی قواعدو ضوابط کے مطابق کام کر رہی ہےکسی کو بھی یونیورسٹی قواعد و ضوابط کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔