مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

شہروں میں مہنگائی کی شرح 26.2 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے: ادارہ شماریات —فوٹو: فائل

شہروں میں مہنگائی کی شرح 26.2 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے: ادارہ شماریات —فوٹو: فائل

مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اگست میں مہنگائی کی شرح 27.3 فیصد ریکارڈ۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آلو، ٹماٹر، سبزیوں، دالوں، انڈوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، ٹماٹر 52.8 فیصد، دال مونگ 15.2 فیصد، سبزیاں 13.44 فیصد، دال ماش 12.4 فیصد اور دال مسور 11.7 فیصد مہنگی ہوگئی۔

اگست میں مہنگائی کی شرح 2.4 فیصد اضافے کے بعد 27.3 فیصد ہو گئی جبکہ جولائی 2022 میں مہنگائی کی شرح 24.9 فیصد تھی۔

شہروں میں مہنگائی کی شرح 26.2 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ماہانہ بنیادوں پر انڈے 7.5 فیصد، دال چنا 6 فیصد، آلو 5 فیصد اور کوکنگ آئل 2.3 فیصد مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 123.37 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 84.21 فیصد اضافہ ہوا۔

ایک سال میں دال مسور 114.34 فیصد، دال ماش 52.70 فیصد، پیاز 90.14 فیصد اور ٹماٹر 38.02 فیصد مہنگے ہوئے۔

خوردنی تیل 74.66 فیصد، گھی 70 فیصد، مرغی 60 فیصد، سبزیاں 41.62 فیصد اور مصالحہ جات 17.43 فیصد مہنگے ہوئے۔

ایک سال میں اسٹیشنری 44.12 فیصد اور کپڑے 23.53 فیصد مہنگے ہوئے۔