لاہور پولیس کا ڈی ایس پی جرائم میں ملوث نکلا

لاہور میں قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑنے لگے۔

چوری کے مقدمے میں قبضے میں لی گئی گاڑی کو ذاتی استعمال میں لانے پر ڈی ایس پی اے ایل وی ایل ایس پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

انسپکٹر رانا شکیل اور محرر اے وی ایل ایس کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ انسپکٹر رانا شکیل ڈی ایس پی اے وی ایل ایس (اینٹی وہیکل لفٹنگ اسٹاف) اقبال ٹاؤن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

مقدمے کے متن کے مطابق مال مفت ، دل بے رحم کے مصداق ضلع لیہ سے گاڑی قبضے میں لی گئی جسے ڈی ایس پی اے وی ایل ایس اقبال ٹاؤن ذاتی استعمال کر رہا تھا۔

تفتیش کرنے پر معلوم ہوا گاڑی تھانے میں موجود نہیں۔ محرر اقبال ٹاؤن اے وی ایل ایس کی ملی بھگت سے انسپکٹر رانا شکیل گاڑی استعمال کرتا رہا۔

معاملے کا تھانہ مصطفیٰ ٹاؤن میں مقدمہ درج کرکے انسپکٹر رانا شکیل اور محرر اقبال ٹاؤن اے وی ایل ایس سے تفتیش شروع کردی گئی۔

علاوہ ازیں لاہور میں قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑنے لگے۔ آن ڈیوٹی تھانیدار بھی شراب کے نشے میں دھت رہنے لگے۔

نشے میں دھت سب انسپکٹر آصف نذیر نے ڈولفن اہلکاروں پر پسٹل تان لیا۔
ڈولفن اہلکاروں نے سب انسپکٹر کو تھانہ لٹن روڈ منتقل کیا جسے بغیر کارروائی چھوڑ دیا گیا۔ ڈیوٹی افسر اور محرر نے ملی بھگت سے اپنے پیٹی بھائی کو چھوڑ دیا۔ جس پر لٹن روڈ کے اے ایس آئی اور محرر کے خلاف اپنے ہی تھانہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈولفن فورس نے لٹن روڈ کے علاقے میں شراب کے نشہ میں دھت سب انسپکٹر کو روکا، چیک کرنے پر ڈولفن ٹیم نے بتایا کہ اس نے شراب پی رکھی اور منہ سے بدبو آ رہی ہے۔

ڈولفن فورس زوہیب فرحان و فیضان وغیرہ نے اسے تھانہ میں جانے کا کہا، جس پر سب انسپکٹر نذیر نے ڈولفن فورس کے منہ پر تھپڑ اور اسلحہ تان لیا، مزاحمت کے بعد اسے تھانہ لٹن روڈ لےجایا گیا اور ڈیوٹی آفیسر شفاقت علی اور خرم کانسٹیبل کے حوالے کردیا، جنہوں نے سب انسپکٹر نذیر کو چھوڑ دیا۔

اعلی افسران کے نوٹس میں آنے کے بعد اے ایس آئی اور خرم محرر کے خلاف مقدمہ 155سی کی دفعات کے تحت درج کرکے کاروائی کا آغاز کردیا گیا۔