[ADINSERTER AMP] [ADINSERTER AMP]

عمران خان کی جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز پر خواجہ آصف کا ردعمل

فوٹو:فائل

فوٹو:فائل

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حسرت ہے کہ وہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگائیں۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ  آرمی چیف کا تقرر کرنا حکومت کا آئینی اور قانونی اختیار ہے اور وہ یہ حق ادا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری میں ڈھائی ماہ باقی ہیں، ابھی اس پر غور کا پراسیس بھی شروع نہیں ہوا،عمران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان نے بنی گالہ میں ملاقاتیں کی ہیں،ذہنی طور پر یہ لوگ آج بھی امریکا کی سپورٹ چاہتے ہیں، عمران خان نے عدالتوں سے متعلق کیا کیا نہیں کہا، اب تو عمران خان ہماری مذہبی ریڈ لائنز بھی کراس کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت چند ووٹوں پر قائم ہے اور وہ کسی بھی وقت کھسک سکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کے بیانات کا دفاع کرنے کو اسد عمر اور شاہ محمود قریشی تیار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے انٹرویو میں  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز دی تھی۔

آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ دنیا میں وہ قوم اوپر جاتی ہے جس میں میرٹ ہو، میں نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ اہم ہے میرٹ پر ہونا چاہیے، میں نےکہا نہ آصف زرداری اور نہ نوازشریف اس میرٹ کیلئے کوالیفائیڈ ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ آصف زرداری تیس سال سے پیسے چوری کررہا ہے، ان کی ترجیح میرٹ نہیں اپنا پیسہ بچانا ہے، یہ میری حکومت گراکر اوپر بیٹھے ہیں یہ پاکستان کیلئے نہیں تھا، ہماری 155 اور ن لیگ کی 85 نشستیں ہیں ان کی کوالیفیکیشن کیسے ہے؟ فری اینڈفیئرالیکشن کرائیں اگریہ جیت جاتے ہیں تو پھر اپناآرمی چیف اپائنٹ کریں۔