[ADINSERTER AMP] [ADINSERTER AMP]

سیلاب سے معاشی نقصان 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے: وزیر مملکت برائے خزانہ

عالمی ادارے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے بعد ہی بتا سکیں گے کہ بحالی اور ترقی کے لیے کیا کچھ درکار ہو گا: عائشہ غوث۔ فوٹو فائل

عالمی ادارے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے بعد ہی بتا سکیں گے کہ بحالی اور ترقی کے لیے کیا کچھ درکار ہو گا: عائشہ غوث۔ فوٹو فائل

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے معاشی نقصان 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے نقصانات ابھی واضح نہیں ہیں تاہم ورلڈ بینک، اقوام اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک مل کر سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے بعد ہی بتا سکیں گے کہ بحالی اور ترقی کے لیے کیا کچھ درکار ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے معاشی نقصان 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے، آئی ایم ایف نے پرائمری سرپلس اور صوبائی کیش سرپلس سمیت مختلف اہداف دیے ہیں لیکن سیلاب کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو مالی نقصانات سے آگاہ کریں گے، آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کا اگلا جائزہ نومبر میں شروع کرے گا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ منی بجٹ لانے یا عوام پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، پیٹرول پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ساڑھے 37 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔