سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے بڑھنے لگے

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے بڑھنے لگے ہیں جن سے خاص طور پر بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

سندھ کے ضلع خیرپور میں گیسٹرو سے 2 بچیاں جاں بحق ہوگئیں، محکمہ صحت سندھ کے مطابق گوٹھ خدا بخش شر میں متعدد بچےگیسٹرو  اور  ملیریا میں مبتلا ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق سندھ بھر میں اب تک 12 لاکھ21 ہزار سے زائد افراد بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، 24 گھنٹوں میں سانس، دمہ اور سینے کی بیماریوں سے 12 ہزار 27 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق  معدے، جلدی امراض، ڈینگی، ملیریا اورڈائریا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ مرادجمالی ،نصیرآباد اور جعفرآبادمیں بھی سیلاب متاثرین میں گیسٹرو، ڈائریا اور جلدی امراض سمیت دیگربیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔

کیمپوں میں طبی سہولتوں کی عدم فراہمی پر بچے، حاملہ خواتین اوربزرگ بیمارہو رہے ہیں۔

پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھی وبائی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے،  سیلاب زدہ علاقوں میں سانس کے امراض ،بخار، ہیضہ، آنکھ اور جلدی امراض میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں 54 ہزار 427 افراد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، 42 ہزار 283 افراد جلدی امراض سے متاثر ہوئے ہیں، 24 ہزار 446 افراد کو ہیضہ ہوگیا ہے۔

 اس کے علاوہ 24 ہزار 675  سیلاب متاثرین بخار  اور 3 ہزار 39 افراد آنکھوں کی بیماریوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ملک بھر میں ڈینگی کے وار بھی جاری ہیں،  اسلام آباد میں ڈینگی سے ایک اور شخص انتقال کرگیا جس کے بعد وفاقی دار الحکومت میں پانچ روز میں ڈینگی سے انتقال کرنے والے افرادکی تعداد3 ہوگئی۔

کراچی میں بھی ڈینگی سے مزید 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں مزید 125افراد ڈینگی میں مبتلا ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں صورت حال ابتر ہوگئی ہے، یہاں ایک دن میں 77 افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

لاہور میں ڈینگی کے تیس کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور پنجاب بھر میں 600کے قریب مریض اسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔