سپریم کورٹ کا آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آئین کے منافی ہے: صدر سپریم کورٹ بار

عدلیہ کےخلاف کسی قسم کی توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے،احسن بھون۔ فوٹو فائل

عدلیہ کےخلاف کسی قسم کی توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے،احسن بھون۔ فوٹو فائل

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا 63 اے سے متعلق کیس کا فیصلہ آئین کے منافی ہے۔

عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کا کہنا تھا کہ تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے مقدمات کی سماعت کی، چیف جسٹس کے اقدامات سے مقدمات کی تعداد میں کمی آئی لیکن اس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کم ہے، پانچ ججزکی تعیناتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست ہوا ہے۔

احسن بھون کا کہنا تھا آئین اور جمہوریت کے خلاف سازشوں سے ملک میں بے جا انتشار ہوا، اقتدار کی ہوس میں اعلیٰ عدلیہ کے ضبط کو بار بار آزمایا گیا۔

انہوں نے عدلیہ، ججز اور ان کی فیملی کی سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے، عدلیہ کی کردار کشی کا نوٹس لیا جائے۔

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آئین کے منافی ہے، آرٹیکل 63 اے فیصلہ میں نظرثانی پر فل کورٹ تشکیل دیکر سماعت کی جائے اور آرٹیکل 183/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کے لیے بھی قانون سازی کی جائے۔