سندھ میں بارش اور سیلابی ریلے، ایک کے بعد دوسری تحصیل متاثر ہونے لگی

شہداد کوٹ کو بچانے کیلئے شہر کو ملانے والی شاہراہ کو تین مقامات پر کٹ لگا دیے گئے۔ جس سے اطراف کے 100 دیہات زیرِآب آگئے — فوٹو: فائل

شہداد کوٹ کو بچانے کیلئے شہر کو ملانے والی شاہراہ کو تین مقامات پر کٹ لگا دیے گئے۔ جس سے اطراف کے 100 دیہات زیرِآب آگئے — فوٹو: فائل

سندھ میں بارش اور سیلابی ریلے، ایک کے بعد دوسری تحصیل کو متاثر کرتے جارہے ہیں، دادو میں سیلاب کا دباؤ برقرار، خیرپور ناتھن شاہ شہر پانی میں ڈوب گیا۔

میہڑ اور جوہی شہر کے چاروں طرف پانی ہی پانی، شہروں کو بچانے کے لیے رِنگ بند کی مضبوطی کا کام جاری۔

میہڑ کے قریب قومی شاہراہ پر پنجاب اور بلوچستان جانے والی ٹریفک تین روز سے بند، قومی شاہراہوں کی بندش یا متاثر ہونے سے امدادی ٹیموں کو بھی متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

شہداد کوٹ کو بچانے کیلئے شہر کو ملانے والی شاہراہ کو تین مقامات پر کٹ لگا دیے گئے جس سے اطراف کے 100 دیہات زیرِآب آگئے۔

مٹیاری کے قریب روہڑی کینال کا گیٹ چھنڈن موری کے مقام پر ٹوٹ گیا دوسری جانب خیرپور کی تحصیلیں کوٹ ڈیجی اور نارو اب بھی زیرِآب ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامی غفلت ، اسپرے نہ کروانے کے باعث مچھروں کی بہتات  کی وجہ سے بیماریاں سر اٹھانے لگی۔