جنوبی کوریا نے پرائیویسی کی خلاف ورزی پر میٹا اور گوگل پر جرمانہ عائد کردیا

جنوبی کورین کمیشن نے اس سزا کا اعلان کیا / اے ایف پی فوٹو
جنوبی کورین کمیشن نے اس سزا کا اعلان کیا / اے ایف پی فوٹو

جنوبی کوریا نے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل اور میٹا کمپنیوں کو 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جنوبی کوریا کے پرسنل انفارمیشن پروٹیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل پر 5 کروڑ ڈالرز اور میٹا پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے صارفین کی اجازت کے بغیر ان کی ذاتی تفصیلات کو اکٹھا کرکے اشتہارات کے لیے استعمال کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ دونوں کمپنیاں اپنے صارفین کی جانب سے ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال کو مانیٹر کرتی ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ جنوبی کوریا کے انٹرنیٹ صارفین (گوگل کے 82 فیصد اور میٹا کے 98 فیصد) نے لاعلمی میں دونوں کمپنیوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت دی۔

جنوبی کورین کمیشن کے فیصلے پر میٹا کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ہم کمیشن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے صارفین کے ساتھ قانونی طریقے سے کام کررہے تھے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ہم کمیشن کے فیصلے سے متفق نہیں اور عدالت سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔

گوگل کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

2021 میں بھی جنوبی کوریا نے موبائل آپریٹنگ سسٹمز اور ایپ مارکیٹس میں اجارہ داری قائم کرنے پر گوگل پر لگ بھگ 18 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔