تعلیمی بورڈ کی پشاور منتقلی کے خلاف ہزارہ ڈویژن میں احتجاج

حکومت خیبر پختونخواہ (کے پی) نے 17 اگست کو صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز کو پشاوربورڈ میں ضم کرنے کے ٹی اوآرز جاری کرکے عمل درآمد کیلئے کمیٹی قائم کردی تھی — فوٹو: فائل

حکومت خیبر پختونخواہ (کے پی) نے 17 اگست کو صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز کو پشاوربورڈ میں ضم کرنے کے ٹی اوآرز جاری کرکے عمل درآمد کیلئے کمیٹی قائم کردی تھی — فوٹو: فائل

ہزارہ ڈویژن کے آٹھوں اضلاع میں تعلیمی بورڈ کی پشاورمنتقلی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ بورڈ ملازمین نے قلم چھوڑہڑتال کردی۔

ہزارہ ڈویژن کے تعلیمی بورڈ کی پشاور منتقلی کے خلاف ہزارہ ڈویژن میں جاری ملازمین کے احتجاج کے باعث انٹرمیڈیٹ کے 12 لاکھ طلبا کے امتحانی نتائج بھی رک گئے ہیں۔

حکومت خیبر پختونخواہ (کے پی) نے 17 اگست کو صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز کو پشاوربورڈ میں ضم کرنے کے ٹی اوآرز جاری کرکے عمل درآمد کیلئے کمیٹی قائم کردی تھی۔

کے پی حکومت کی جانب سے تعلیمی بورڈ کی منتقلی کے خلاف ہزارہ ڈویژن کے ڈیڑھ کروڑ عوام نے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی ہے۔

حکومتی فیصلے کے بعد بورڈ ملازمین کی قلم چھوڑ ہڑتال کے باعث انٹرمیڈیٹ کے 12 لاکھ طلبا کے امتحانی نتائج رک گئے ہیں۔

بورڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ پورے صوبے کے لاکھوں طلبا کے امتحانات کو پشاور سے کنٹرول کرنا تکنیکی طورپر ناممکن ہے۔

خیبرپختونخواہ کے قائم مقام گورنرمشتاق غنی نے تسلی دی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مفادات کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گی مگرلوگوں کی پریشانی کم نہیں ہوئی۔