تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ایف آئی اے شواہد اکٹھے کر رہی ہے

مطلوبہ شواہد اکٹھے ہونے پر ریفرنس کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا: وزیر قانون۔ فوٹو فائل

 مطلوبہ شواہد اکٹھے ہونے پر ریفرنس کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا: وزیر قانون۔ فوٹو فائل

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ میں اس پر پابندی لگانے کے لیے ریفرنس جمع کرانے کے لیےپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مجرمانہ سرگرمیوں اور دیگر غلط کاموں کے مزید ناقابلِ مواخذہ شواہد کو مرتب کرنے اور اکٹھے کرنے کے لیے کام کر  رہے ہیں۔ 

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دی نیوز کو بتایا کہ مطلوبہ شواہد اکٹھے ہونے پر ریفرنس کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا اور امید ہے کہ یہ کام جلد مکمل ہو جائے گا۔ 

مختصر گفتگو میں وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکمران پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) قانون اور آئین کے حکم پر عمل کرے گا، لہٰذا پی ٹی آئی کی تقدیر پر مہر لگانے کے لیے ضروری کام کرنے میں کوئی سستی نہیں برتی جائے گی۔

اس دوران قانونی ماہرین نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے، دفاتر سیل کر دیے جائیں گے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کالعدم جماعت قرار دیے جانے کی صورت میں تمام اراکین پارلیمنٹ کی بطور قانون ساز حیثیت ختم ہو جائے گی۔

حکومت کو ای سی پی کا ریفرنس موصول ہو گیا ہے اور اس نے آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس کے ساتھ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کی اہلیت فراہم کر دی ہے۔ 

متعلقہ ایجنسیاں سابق وزیر  خزانہ شوکت ترین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کی فرانزک رپورٹ طلب کریں گی۔