بلوچستان میں سیلابی پانی نہ نکل سکا، متاثرین بیماریوں کا شکار ہونے لگے

ارد گرد پانی اور شدید گرم موسم میں متاثرین چارپائیوں کے سائے تلےچھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ امداد کے منتظر ہیں — فوٹو: فائل

ارد گرد پانی اور شدید گرم موسم میں متاثرین چارپائیوں کے سائے تلےچھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ امداد کے منتظر ہیں — فوٹو: فائل

بلوچستان کے علاقے جعفرآباد، نصیرآباد اور صحبت پور میں تاحال سیلابی پانی کی نکاسی نہ ہو سکی، بارشوں اور سیلاب کی مصیبتیں جھیلنے والے سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

صحبت پور کےعلاقوں سے لیکر ڈیرہ اللہ یار، کیٹل فارم اور گنداخہ تک کےعلاقوں میں پانی ابھی تک موجود ہے جس کے باعث ملیریا اور جلدی بیماریاں متاثرین کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔

ارد گرد پانی اور شدید گرم موسم میں متاثرین چارپائیوں کے سائے تلےچھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ امداد کے منتظر ہیں۔

گنداخہ میں محکمہ صحت کی جانب سےمیڈیکل کیمپ قائم نہ کرنےکے خلاف متاثرین احتجاج پر مجبور ہو گئے۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ملیریا اور ڈائیریا سے لوگ مر رہےہیں، انتظامیہ چند دوائیوں کے ڈبے بھیج کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو رہی ہے۔

ادھر سیلاب سےمتاثرہ ضلع قلعہ عبداللہ میں خواتین اور بچوں میں پیٹ، دست، جلد اور آنکھوں کی بیماریوں سمیت ذہنی صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

خواتین اور بزرگ ڈپریشن اور بے خوابی کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔