بلوچستان میں جعفرآباد سمیت کئی علاقوں سے پانی نہ نکل سکا، وبائی امراض پھوٹنے لگے

شدید گرمی میں ملیریا، جلدی امراض اور گیسٹرو سے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے — فوٹو: فائل

شدید گرمی میں ملیریا، جلدی امراض اور گیسٹرو سے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے — فوٹو: فائل

جعفر آباد، نصیر آباد اور صحبت پور کے علاقوں میں کئی روز سے جمع پانی کا نکاس نے ہو سکتا جس کے باعث پیدا ہونے والے وبائی امراض سے انسانی المیہ جنم لینے لگا۔

شدید گرمی میں ملیریا، جلدی امراض اور گیسٹرو سے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ڈیرا اللہ یار، گنداخہ، صحبت پور، نوتال، بابا کوٹ اور ربیع میں متاثرین کو ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، سیکڑوں خاندان پانی میں اور سڑکوں کے کنارے ضروریاتِ زندگی اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

ادھر راجن پور کے سیلابی علاقوں میں بھی پانی کا اخراج نہ ہونے سے ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافہ ہورہا ہے، مچھر دانیوں اور صاف پانی کی بھی شدید قلت ہے۔

دوسری طرف بولان میں سیلاب سے تباہ ہونے والے پنجرہ پل کا کام اب تک شروع نہیں ہوسکا جس سے کوئٹہ آنے اور جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب جنوبی پنجاب کے راجن پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی ابھی تک موجود ہے۔

کئی دنوں سے کھڑے پانی سے ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافہ ہورہاہے، مچھر دانیوں اور صاف پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ سڑکیں اب تک بحال نہیں ہوسکیں۔

راجن پور میں اپنے گھروں کو لوٹ جانے والے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت اپنے تباہ حال گھروں کو تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے متاثرین اب بھی انڈس ہائی وے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔