بلغارین سفارتخانہ نے ’’بینٹلے ملسن‘‘ کو ضبط کرنے کا کہا تھا، تفتیشی افسر نے چالان جمع کرادیا

کار کی برآمدگی کے ضبط کرکے لے جانے کے دوران کی ایک تصویر (فوٹو : فائل)

لگژری گاڑی بینٹلے ملسن کی کراچی سے برآمدگی کے تفتیشی افسر نے کسٹم کورٹ میں عبوری چالان جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ بلغارین سفارت خانے نے گاڑی ضبط کرنے کا کہا تھا لیکن عمل درآمد نہ ہوا۔

تفتیشی افسر نے چالان میں کہا ہے کہ کیس میں دو ملزمان نوید یامین اور محمد سہیل گرفتار ہیں، ملزمان پر ٹیکس ڈیوٹی کی مد میں 30 کروڑ روپے کی چوری کا الزام ہے، ملزمان نے کسٹم قوانین اور سفارتی استثنیٰ کی خلاف ورزی کی، گاڑی سفارتی چھوٹ کی آڑ میں ٹیکس ڈیوٹی کی چوری کے مقصد کے لیے پاکستان لائی گئی۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان سفارتی مراعات اور زیرو ڈیوٹی ٹیکس کی درآمد میں ملوث ہیں، شفیع نامی شہری نے تین کروڑ 75 لاکھ روپے میں گاڑی خریدی جو کہ گاڑی کی اصل قیمت کا ایک حصہ ہے، سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے گاڑی بلغاریہ کے اس وقت کے سفیر الیگزینڈر بوریسوف کے نام پر رجسٹرڈ کی تھی، دستاویزات کی تصدیق کے بغیر گاڑی رجسٹرڈ کرنے میں ایکسائز حکام کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔

چالان کے مطابق گاڑی بلغاریہ کے سفیر کے نام پر 11 نومبر 2019ء کو ایک استثنیٰ سرٹیفیکیٹ کے بنیاد پر درآمد کی گئی۔ بلغاریہ کے سابق سفیر ستمبر 2019ء میں پاکستان آئے اور ستمبر 2020ء کو واپس چلے گئے تھے، بلغاریہ کے سفارت خانے نے سفارش کی تھی گاڑی ضبط کرلی جائے کہیں اس کا غلط استعمال نہ ہو جب کہ گاڑی سفارت خانے کے قبضے میں نہ ہونے کی وجہ سے ڈی رجسٹرڈ کا بھی کہا گیا تھا۔

تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ملزم نوید یامین نے بروکر نوید بلوانی کے ذریعے شفیع نامی شہری کو گاڑی فروخت کی تھی، بلغاریہ کے سفارت خانے کے ملازمین کے ساتھ ملزم نوید یامین کی وابستگی سے متعلق شکوک و شبہات ہیں، تمام افراد اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔