الزامات مسترد کرتا ہوں، تحائف نہیں چھپائے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کا الیکشن کمیشن کو جواب

توشہ خانہ ریفرنس اختیارات کا ناجائز استعمال اور آئینی اختیارات کی توہین ہے، عمران خان۔ فوٹو فائل

توشہ خانہ ریفرنس اختیارات کا ناجائز استعمال اور آئینی اختیارات کی توہین ہے، عمران خان۔ فوٹو فائل

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس سے متعلق جواب جمع کرا دیا۔

عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ میرے خلاف توشہ خانہ ریفرنس بلا جواز اور بے بنیاد ہے، درخواست گزار اور اسپیکر کا ریفرنس بدنیتی پرمبنی ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے کیس بنایا گیا ہے، توشہ خانہ ریفرنس اختیارات کا ناجائز استعمال اور آئینی اختیارات کی توہین ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہی غیر قانونی ہے، ریفرنس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے اور نہ وہاں قابل سماعت ہے، توشہ خانہ تحائف کو اثاثوں میں کبھی نہیں چھپایا، تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔

انہوں نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ میں متعلقہ سیکشن 137 کے تحت نااہلی یا جرمانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن 63 ٹو کے تحت ریفرنس کا تعین نہیں کر سکتا، اثاثوں کی تفصیلات غلط ہونے پر الیکشن کمیشن 120 دن کے اندر کارروائی کر سکتا ہے، اس کیس پر اب کارروائی نہیں ہو سکتی۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن رکن کو 62 ون ایف کے تحت نااہل نہیں کر سکتا، الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، وہ 62 ون ایف کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا اور اسپیکر بھی ایسا کوئی ریفرنس الیکشن کمیشن کو نہیں بھیج سکتا۔

عمران خان کا جواب میں کہنا ہے کابینہ ڈویژن کے آفس میمورینڈم کے مطابق تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع ہوں گے اور 30 ہزار روپے مالیت تک کا تحفہ وصول کرنے والا بغیر ادائیگی کے رکھ سکتا ہے، 30 ہزار روپے مالیت سے زائد کے تحائف کو 50 فیصد ادائیگی کے بعد لیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 تک تمام اہم شخصیات کو 329 تحائف دیے گئے، سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے، تحائف میں گلدان، ٹیبل کورز، چھوٹے قالین اور پرفیومز، ڈیکوریشن پیس، پیپر ویٹ، پین ہولڈرز، گھڑیاں، قلم، کف لنک، انگوٹھی، کڑے اور لاکٹ بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف 14 تحائف کی قیمت 30 ہزار روپے مالیت سے زیادہ تھی، جولائی 2018 سے جون 2019 کے دوران موصول 31 تحائف میں سے صرف 4 رکھے، ان تحائف کی ادا کی گئی مالیت 2 کروڑ 15 لاکھ 64 ہزار روپے ہے، جولائی 2019 سے جون 2020 تک موصول 9 تحائف کی ادا رقم 17 لاکھ 19ہزار700 روپے ہے،

جولائی 2020 سے جون 2021 تک موصول 12 تحائف کی ادا رقم 1 کروڑ16 لاکھ 85 ہزار 250 روپے ہے جبکہ جولائی 2021 سے جون 2022 تک 6 تحائف رکھے، ادا رقم 31 لاکھ 7500 روپے ہے، تحائف کی ادا کی گئی کُل رقم 3 کروڑ80 لاکھ 76 ہزار روپے ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے بتایا کہ سال 2021-22 کے دوران ملے 2 تحائف کی تفصیلات ابھی گوشواروں میں جمع ہونی ہیں، اثاثے چھپانے کا الزام بے بنیاد اور غلط ہے، الزام کو مسترد کیا جاتا ہے کہ کوئی اثاثے چھپائے گئے یا ڈکلیئر نہیں کیے۔

الیکشن کمیشن میں عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ہر رکن کی دائر درخواست ریفرنس نہیں بن جاتی، اسپیکر نے اپنا دماغ استعمال نہیں کیا، اس کیس میں نااہلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ریفرنس کو الیکشن کمیشن مسترد کر سکتا ہے لہذا ریفرنس کو بے بنیاد، غلط اور مواد کے بغیر قرار دے کر مسترد کیا جائے۔