وہ عام عادت جو آپ کو ذیابیطس کا شکار بناسکتی ہے

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

ذیابیطس ٹائپ 2 متعدد امراض کا خطرہ بڑھانے والی بیماری ہے اور  ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زیادہ افراد میں اس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

ویسے تو ذیابیطس کے مریض مختلف اقدامات سے بیماری کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں مگر اس کا شکار ہونے سے بچنا بھی بہت آسان ہے، خاص طور پر نیند کے معیار کو بہتر بناکر ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہ خیال رہے کہ ہر فرد کو ذیابیطس کا سامنا نہیں ہوتا اور ابھی طبی ماہرین یہ پیشگوئی نہیں کرسکتے کہ کس فرد میں اس بیماری کی تشخیص ہوسکتی ہے۔

خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ، موٹاپا، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا اور ناقص غذائی عادات کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر قرار دیا جاتا ہے۔

مگر محققین کی جانب سے بیماری کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کا تعین کرنے کے لیے مسلسل تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔

اس نئی تحقیق میں ایک ہزار افراد کو شامل کرکے نیند اور ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق میں نیند اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے والے دیگر عناصر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے تحقیق میں شامل افراد سے معلوم کیا کہ انہیں سونے میں کس حد تک مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جس کے بعد ان کی نیند کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی ذیابیطس کا شکار بنانے والا اہم عنصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف نیند کے ناقص معیار سے کسی فرد میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں مگر نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ نیند کی کمی سے ذیابیطس کا خطرہ کس حد تک بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ کیا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل The Science of Diabetes Self-Management and Care میں شائع ہوئے۔