ورزش کرنے اور کم کھانے کے باوجود موٹاپے کا شکار بنانے والی اہم وجہ دریافت

یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

ورزش کرنے اور کم کھانے کے باوجود جسمانی وزن میں اضافہ ہورہا ہے؟ توجسم میں انسولین کا توازن بگڑنے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ بات سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ویسے تو یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ زیادہ جسمانی وزن کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مگر باسل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت ہوا کہ یہ عمل الٹا بھی ہوسکتا ہے یعنی جسم میں انسولین کی کمی بھی موٹاپے کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر انسولین بننے کا عمل متاثر ہو، جیسا ذیابیطس ٹائپ 2 کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے، تو جسمانی وزن میں اضافے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک اہم جسمانی enzyme پی سی 1/3 پر توجہ مرکوز کی گئی تھی جو متعدد ہارمونز کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

اگر یہ enzyme درست طور پر کام نہ کرے تو متعدد مسائل جیسے حد سے زیادہ بھوک لگنے اور موٹاپے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں معلوم ہوا کہ لبلبے کے خلیات میں پی سی 1/3 کو ٹرن آف کرنے پر یہ جانور ضرورت سے زیادہ کھانے لگے جس کے باعث وہ بہت جلد موٹاپے اور ذیابیطس کے شکار ہوگئے۔

محققین نے کہا کہ نتائج بہت دلچسپ ہیں کیونکہ ہائی بلڈ شوگر کے شکار مریضوں کے لبلبے میں پی سی 1/3 کی سطح گھٹ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ انسولین کی مقدار میں کمی سے ذیابیطس کا خطرہ ہی لاحق نہیں ہوتا بلکہ جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسم میں اس enzyme کی مناسب مقدار صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اس تحقیق نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئے۔