ون سلیب بینیفٹ ختم، بجلی صارفین کو بھاری بل موصول ہونے لگے

فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

حکومت نے بجلی مہنگی کرنےکے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کے بلوں پر دیا جانے والا ون سلیب بینیفٹ  بھی کردیا جس سے شہریوں کو بھاری بل موصول ہو رہے ہیں۔

خیال رہےکہ پہلے بجلی تقسیم کار کمپنیاں گھریلو صارفین کا بجلی بل ون سلیب بینیفٹ کی بنیاد پر بھیجتی تھیں، یعنی اگر کسی صارف نے ایک ماہ میں 350 یونٹ بجلی استعمال کیے تو اس سے ایک سے 300 یونٹ تک کا ایک ریٹ اور اوپرکے 50 یونٹ کا 301 سے 400 یونٹ والا الگ ریٹ لگتا تھا۔

 ذرائع کے مطابق اب پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا باقی تمام گھریلو صارفین کے لیے ون سلیب بینیفٹ کی یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔

 اب اَن پروٹیکٹڈ صارفین پر استعمال ہونے والی بجلی پر آخر ی استعمال شدہ  یونٹ کا ریٹ ہی لگےگا، یعنی اب 350 یونٹ کے استعمال پر 301سے 400  یونٹ تک کے سلیب کا ریٹ لگے گا ۔ 

سلیب بینیفٹ کے تحت 150 یونٹ استعمال کرنے پر صارف کو پہلے 100 یونٹ13 روپے 48 پیسے میں پڑتے تھے، 100 سے اوپر 50 یونٹ پر صارف سے فی یونٹ 18 روپے 58 پیسے وصول کیے جاتے تھے لیکن اب 150 یونٹ ماہانہ خرچ والے صارفین سے مجموعی طور پر  18 روپے 58 پیسے فی یونٹ وصول کیے جارہے ہیں۔

 اس کے علاوہ ماہانہ 201سے 300 فی یونٹ ریٹ 21 روپے 47پیسے ہے، ماہانہ 400 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ ریٹ 24 روپے 63 پیسے بنتا ہے، ماہانہ 500 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ قیمت 26 روپے ہے،  ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فی یونٹ قیمت 27 روپے ہے، ماہانہ 700 یونٹ استعمال پر فی یونٹ ریٹ 27 روپے 65 پیسے ہے، ماہانہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر فی یونٹ نرخ 31 روپے 12 پیسے لاگو ہوتا ہے۔

کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین ایسے گھریلو صارفین کو کہا جاتا ہے  جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران مسلسل 200  سے کم یونٹ استعمال کر رہے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران اگر کوئی صارف 200 یونٹ کی حد پار کرلے تو وہ پروٹیکٹڈ صارف کی فہرست سے نکل جائے گا اور اسے سلیب بینیفٹ کا ریلیف نہیں ملے گا جب کہ دوبارہ  پروٹیکٹڈ صارف بننے کے لیے ضروری ہے کہ مسلسل 6 ماہ تک اس کا بجلی کا خرچ 200 یونٹ تک محدود رہے۔