پاکستان میں ہر روز 53 افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں

پاکستان میں ہر روز 53 افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں

10 ستمبر2003 وہ دن تھا جب دنیا بھرمیں’’ خودکشی کو روکا جاسکتا ہے‘‘کے پیغام کو پھیلانے کی کوششوں کو ایک عالمی تحریک کی صورت دیتے ہوئے اسے’’ خود کشی کی روک تھام‘‘ کے پہلے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ تب سے یہ دن ہر سال دنیا بھر میں مذکورہ تاریخ کو منایا جاتا ہے۔

کیونکہ خود کشی اُن بہت سے مسائل میں سے ایک ہے جس پر اکثر معاشروں میں بات کرنے سے کترایا جاتا ہے ۔ذرا سوچئے !جب تک ہم بات نہیں کریں گے تو شعورکیسے پیدا ہوگا؟ الجھنیںکیسے سلجھے گیں؟ مدد کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟ ترجیحات کے تعین اورفوری و ضروری نوعیت کے اُمور کی نشاندہی کیسے ہوگی ؟ ارباب اختیار کو کیسے آگاہ اور قائل کیا جاسکے گا؟یوں بات کرنے کے عمل سے معاشرہ اپنے مسائل کی نشاندہی اور اُن کے حل کے قابل ہوتا ہے۔ یعنی بات کرنے سے ہی بات بننا شروع ہوتی ہے۔لہذا آج ہم بات کریں گے ’’ خودکشی کی روک تھام‘‘ کے حوالے سے جس کے عالمی دن کا اِمسال عنوان ہے ’’عمل کے ذریعے امید پیدا کرناــ‘‘۔

خودکشی ایک عالمی رجحان ہے اور دنیا کا کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں۔ امیرترین ہو یا غریب ترین ، متوسط ہو یا غریب ہر جغرافیائی وحدت میں یہ عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 2019 میں ہونے والی خودکشیوں کا 77 فیصد کم اور متوسط آمدن کے حامل ممالک میں ہوا۔ دی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار سوسائیڈ پریوینشن کے مطابق’’ ہر 45 سیکنڈ میں اس کرہء ارض کے کسی حصہ میں کوئی شخص اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں ختم کرلیتا ہے۔ یوں ہرسال دنیا بھر میں 7 لاکھ3 ہزارافراد خودکشی کرتے ہیں‘‘۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر100 اموات میں سے ایک موت خودکشی کا نتیجہ ہے۔ جو2019 میں اموات کی 17 ویں بڑی وجہ بنی اور عالمی اموات میں خود کشی کا تناسب 1.3 فیصد رہا۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب لوگ خود کو مارتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ درد کو ختم کر رہے ہیں لیکن وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے وہ اُس درد کو اُن لوگوں تک پہنچا رہے ہوتے ہیں جنہیں وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں‘‘ ۔بین لااقوامی تحقیق بھی یہ ہی بتاتی ہے کہ ہر خود کشی کے نتیجے میں 135 افراد شدید غم کا شکار ہوتے ہیں یا دوسری صورت میں متاثر ہوتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں دنیا میں ہر سال 108 ملین افراد خودکشی کے رویوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد تو خودکشی کے منطقی انجام تک پہنچنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ خودکشی کی روک تھام کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا میںہرایک خودکشی کے مقابلے میں 25 اقدام خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں۔ جبکہ اَن گنت افراد خودکشی کے خیالات میں گھرے رہتے ہیں۔

خودکشی کا سبب کیا ہے؟ ہر سال اتنے لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ غربت کی وجہ سے ہے؟ بے روزگاری؟ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ؟ یا یہ ڈپریشن یا دیگر سنگین ذہنی امراض کی وجہ سے ہے؟ کیا خود کشیاں کسی زبردست عمل کا نتیجہ ہیں؟ یا وہ الکحل یا منشیات کے ناکارہ اثرات کی وجہ سے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں لیکن کوئی آسان جواب نہیں۔ کوئی ایک عنصر اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایک شخص خودکشی سے کیوں مرتا ہے۔ خودکشی کا رویہ ایک پیچیدہ رجحان ہے جو حیاتیاتی، جینیاتی، نفسیاتی، سماجی، اقتصادی ،ماحولیاتی اور حالات کے عوامل کے تعامل سے متاثر ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت عامہ کے ایک بڑے مسئلے کے طور پر خودکشی کے بارے میں آگاہی کی کمی اور بہت سے معاشروں میں اس پر کھل کر بات کرنے کی ممانعت کی وجہ سے خودکشی کی روک تھام پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

آج تک صرف چند ممالک نے خودکشی کی روک تھام کو اپنی صحت کی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور صرف 38 ممالک نے خودکشی سے بچاؤ کی قومی حکمت عملی تیارکی ہے۔اس کے علاوہ عالمی سطح پر خودکشی اور خودکشی کی کوششوں سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی اور معیار ناقص ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے صرف 80 رکن ممالک کے پاس اچھے معیار کا اہم رجسٹریشن ڈیٹا ہے جسے براہ راست خودکشی کی شرح کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اموات کے اعداد و شمار کے ناقص معیار کا یہ مسئلہ خودکشی کے حوالے سے منفرد نہیں ہے۔لیکن خودکشی کی حساسیت کے پیش نظر اور کچھ ممالک میں خودکشی کے رویے کی غیر قانونی حیثیت کے پیش نظر یہ امکان ہے کہ دیگر اموات کی وجوہات کی نسبت خودکشی کوانڈر رپورٹنگ اور غلط درجہ بندی جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

پاکستان کا شمار بھی اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں خودکشی کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ خودکشی سے ہونے والی اموات کی تعداد سالانہ قومی اموات کے اعداد و شمار میں شامل نہیںہو تیں۔اس لیے قومی شرحیں نہ تو معلوم ہیں اور نہ ہی عالمی ادارہ صحت کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔پاکستان میں خودکشی کے بارے میں معلومات اخبارات، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، رضاکارانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف شہروں کے پولیس محکموں سمیت متعدد ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال پر مبنی مطالعات سے مزید معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔

جیسے جان بوجھ کر زہرلینا، جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانا اور فارنزک میڈیسن کے محکموں کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کے ذریعہ۔ اِن تمام معروضی حالات کی روشنی میں اگر ہم خود کشی کے کیسز کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو 2021 میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے سوسائیڈ ورلڈ وائڈ اِن2019 گلوبل ہیلتھ ایسٹیمیٹس نامی رپورٹ جاری کی ہے جس کے اعدادوشمار کے مطابق 2019 میں پاکستان میں 19331 افراد نے خود کشی کی۔جس کا 76 فیصد مرد اور34 فیصد خواتین پر مشتمل تھا۔

اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق ملک میں53 لوگ روزانہ اور ہر گھنٹے میں 2 افراد اپنے ہی کسی عمل سے اپنی سانس کی ڈور کو توڑ لیتے ہیںاور مذکورہ سال دنیا میں ہونے والی خودکشیوں کا 2.73 فیصد پاکستان میںرونما ہوا۔ اگرخودکشی کے کیسز کی مجموعی تعداد کے حوالے سے ہم ممالک کی درجہ بندی کریں تو پاکستان کی جو صورتحال سامنے آتی ہے اس کے مطابق 2019 ء میں وطن عزیز میں ہونے والے خودکشی کے کل کیسز کی تعداد دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر تھی۔ مرد کیسز کی تعداد کے حوالے سے پاکستان کا نمبرپانچواں اور خواتین کے لحاظ سے چھٹا بنتا ہے۔

بھارت دنیا بھر میں خودکشی کے سب سے زیادہ کیسز کی تعداد کے ساتھ سرفہرست ہے۔ چین دوسرے اور امریکہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اگر ہم Crude suicide rates کے حوالے سے درجہ بندی کو دیکھیں توپاکستان8.9 اموات فی لاکھ کے ساتھ دنیا بھر میں 75 ویں نمبر پر ہے اور Age-standardized suicide ratesکے حساب سے 9.8 اموات فی لاکھ کے ساتھ 73 ویں نمبر پر ہے۔Age-standardized suicide rates کے اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں خودکشی کے کیسز میں کمی آئی ہے۔ 2000 ء میں یہ ریٹ11.1 اموات فی لاکھ تھا جو2019ء میں کم ہوکر 9.8ہوگیا ہے۔

لیکن خودکشی کے کیسز کے حوالے سے جوچیز قابل تشویش ہے وہ نوجوانوں میں اس رجحان کی زیادہ موجودگی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی دی گلوبل ہیلتھ ابزرویٹری کے اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق ملک میں 15 سے 24 سال کی عمر کے گروپ میں کروڈ سوسائیڈ ریٹ(Crude suicide rates ) 13.15 اموات فی لاکھ ہے جو پاکستان کو دنیا بھر میں 26 ویں نمبر پر براجمان کئے ہوئے ہے اسی طرح15 سے29 سال کی آبادی میں یہ ریٹ 14.74 فی لاکھ ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی 24 ویں پوزیشن کا باعث ہے۔

جبکہ 15 سے19 سال کے نوبالغوں میں خودکشی کی شرح10.03 فی لاکھ ہے جس سے وطنِ عزیز دنیا بھر میں 29 ویں نمبر پر ہے۔اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی اندازہ ہے کہ خودکشی کے ہر ایک کیس کے مقابلے میں خودکشی کی کوشش کے تقریباً 20 واقعات ہوتے ہیں۔ ان اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال 130000 سے 270000 خودکشی کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔یہ کہناہے RISING SUICIDE RATES IN PAKISTAN: IS IT ABOUT TIME TO BREAK THE SILENCE? نامی تحقیقی مقالہ کا۔

سوسائیڈ پری وینشن اِن پاکستان :این ایمپاسیبل چلینج نامی تحقیقی مقالہ کے مطابق’’ پاکستانی قانون کے تحت خودکشی اور جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانا دونوں غیر قانونی کام ہیں جن کی سزا جیل اور مالی جرمانہ ہے۔ قانون کے مطابق خودکشی کے تمام کیسز کو کسی ایک ایسے سرکاری ہسپتال میں لے جایا جانا چاہیے جسے طبی قانونی مراکز کے طور پر نامزد کیا گیا ہو۔ لیکن جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے کے معاملات میں بہت سے لوگ پولیس کی طرف سے ہراساں کیے جانے ، شرمندگی اور بدنامی کے خوف سے اِن مراکز میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔

اس کے بجائے وہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہیں جو نہ تو خودکشی کی تشخیص کرتے ہیں اور نہ ہی پولیس کو رپورٹ کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں خودکشی اور جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات انڈر رپورٹ رہتے ہیں۔پاکستان میں جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے اور خودکشی سے متعلق قانون پر نظرثانی کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ جن لوگوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے وہ پولیس کے ظلم و ستم کے خوف کے بغیر ایسا کر سکیں۔ نیا مینٹل ہیلتھ آرڈیننس 2001 جس نے 1912 کے پاگل پن کے ایکٹ کی جگہ لے لی ہے۔

ایک قدم آگے بڑھا ہے اور خودکشی کی کوشش سے بچ جانے والوں کی نفسیاتی تشخیص کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ آرڈیننس کا سیکشن 49 خودکشی اور جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے اور یہ کہتا ہے۔’خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کا جائزہ ایک منظور شدہ سائیکاٹرسٹ کے ذریعے لیاجائے گا اور اگر اسے ذہنی عارضے میں مبتلا پایا جاتا ہے تو اس آرڈیننس کی دفعات کے تحت مناسب علاج کیا جائے گا‘۔

تاہم یہ واضح طور پر جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے کو غیر مجرم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے‘‘۔ پاکستان میں خودکشی کے قوانین کے استعمال کی بعض اوقات عجب صورت بھی سامنے آتی ہے۔ خودکشی کرنے والے کے لواحقین اکثر خودکشی کو حادثاتی موت کا روپ دیتے ہیں جبکہ قتل اور اقدام قتل کے کیسز اور خواتین پر تشدد کے کیسز کو خودکشی کا روپ دے دیا جاتا ہے۔

محمد ارشد علی فاروقی ،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ہیں۔ملک میں خودکشی کے حوالے سے موجود قوانین کی تفصیل بتاتے ہیں کہ’’تعزیرات پاکستان جس کو پاکستان پینل کوڈ(Pakistan Penal Code) بھی کہا جاتا ہے یہ بنیادی طور پر انگریز دور میںپینل کوڈ بنایا گیا تھا اس میں خودکشی کے متعلق تو کوئی دفعہ نہیں ہے کیونکہ جو بندہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اسے کیا سزا دی جاسکتی ہے لیکن اگر کوئی بندہ خودکشی کی کوشش کرتا ہے یعنی اقدام خودکشی کرتا ہے تو اس کے بارے میں دفعہ 325 موجود ہے ۔ جس کے تحت ایک سال تک سزا یاجرمانہ یا سزا اور جرمانہ دونوں ایک ساتھ بھی ہوسکتے ہیں‘‘۔

اقدام خود کشی کے حوالے سے ملکی قوانین میں موجود سزاؤں پر عملدرآمد کی کیا صورتحال ہے؟اس سوال کے جواب میں اُن کا کہنا ہے’’ میری 22 سالہ پریکٹس میں نے کوئی ایک کیس ایسا نہیں دیکھا جو عدالت میں آیا ہو اور اس میں کوئی سزا ہوئی ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو اس قسم کے کیس ہوتے ہیں ریاست اس میں مدعی بنتی ہے۔ تو میرے خیال میں اس لئے بھی یہ کیس درج نہیں ہوتے کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وقت کا زیاں ہے۔چونکہ ہمارا نظام بہت پیچیدہ ہے اُس میں پولیس مدعی بنے گوا ہان سرکاری ہوں۔

پھر وہ سرکاری طور پر جا کر کے اپنی شہادت قلم بند کریں ایک ایسے انسان کے لیے جو پہلے ہی اپنی زندگی سے تنگ ہے اور وہ اس دنیا سے جانا چاہتا ہے۔ تو اُس کو سزا دلوانے کے لیے وہ کورٹ میں جاکربیان دیں۔ اس وجہ سے بھی میرا خیال ہے کہ یہ مقدمات درج نہیں کیے جاتے۔ اگر کوئی کیس درج ہوتا بھی ہے تو اسے ابتدائی سطح پر ہی ڈسپوز آف کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ کورٹ میں جا کر نہ تو عدالت کا ٹائم ضائع کرے اور نہ ہی اسٹیٹ مشینری حرکت میں آئے‘‘۔ خودکشی کے کیسز کو عموماً لواحقین کی جانب سے حادثاتی موت ڈکلیئر کیا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ اس بارے میںمحمد ارشد علی فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’اس کی اصل وجہ خود کشی کے ساتھ جڑی بدنامی اور سماجی دوری کا طرز عمل ہے ۔ جس کا متاثرہ خاندان کے افراد کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ لوگ متاثرہ فیملی کے ساتھ ہمدردی اور افسوس کرنے کے بجائے اُن پر طعنہ زنی کرتے ہیں اوراِن سے ملنا جلنا کم کردیتے ہیں۔ یہ اور دیگر وجوہات کے باعث خود کشی کے کیسزکوحادثے کا رنگ دے کر اصل بات کو چھپا لیا جاتا ہے‘‘۔

کیا اقدام قتل کے کیسز کو خودکشی کا رنگ بھی دیا جاتا ہے؟ ’’ جی کئی بار ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ لوگوں کو قتل کرکے لٹکا دیا جاتا ہے اور خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے ۔خاص کرسسرال والے اپنی بہو کویا خاوند اپنی بیوی کو جب وہ کچن میںکھانا پکا رہی ہوتی ہے اُس پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے اس طرح کے کئی کیسز میں نے کنڈکٹ بھی کیے ہیں جن کو پہلے خودکشی کا رنگ دیا گیا بعد میں حالات سامنے آئے تو پتہ چلا کہ اس کو قتل کیا گیا تھا ۔اِن حالات میں اس کو مس یوز بھی کیا جاتا ہے کہ قتل کرکے اس کو خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے‘‘۔

کیا اقدام خود کشی کے قوانین میں بہتری کی گنجائش ہے؟ اس سلسلے میں کوئی تازہ ترین قدم اٹھایا گیا ہے؟اس بارے میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد ارشد علی فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’ابھی حال ہی میں سنیٹر شہادت اعوان کی جانب سے سینٹ میں پیش کردہ ایک بل کو منظور کرکے قومی اسمبلی بھیجا گیا ہے ۔جس میں پاکستان پینل کوڈ سیکشن 325 میں ترمیم کرنا مقصود ہے ۔اس بل میں کسی بھی شخص کی طرف سے خودکشی کی کوشش کو رفع تعزیر(decriminalize)قراردیا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کی کوشش ہمیشہ ڈپریشن یا ذہنی بیماری یا عارضے کی وجہ سے کی جاتی ہے۔

میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بین الاقوامی طور پر بھی قانون کی اس دفعہ کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جو لوگ اس طرح کا رجحان رکھتے ہیں ان کو ایجوکیٹ کیا جائے ناکہ انہیں سزا دی جائے۔ میرے خیال میں اس دفعہ کا معاشرے میں کوئی ایسا فائدہ نہیں ہے کیونکہ یہ کسی کے خلاف جرم نہیں ہے۔

بلکہ اگر کوئی بندہ اپنی ذات میں ایسا کرتا ہے تو میرا خیال یہ ہے کہ وہ سزا کا مستحق نہیں ہے بلکہ اسے ایجوکیٹ اور شعوردینے کی ضرورت ہے‘‘۔ کیا سزاسے خودکشی کے رجحان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے؟ ’’بالکل نہیں ایک بندہ جو پہلے ہی اپنے آپ کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے زندہ بچ جانے پر سزائیں دینا ایسا ہی ہے کہ زندہ کیوںبچے ۔سزا کی بجائے بحالی کے ادارے ہونے چاہیئے۔ تاکہ اقدام خودکشی کرنے والوں کے ذہن کو زندگی کی طرف لوٹایا جاسکے‘‘۔

حالیہ برسوں میں خودکشی دنیا بھر میں صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ خودکشی اور خودکشی کی کوششیں دوستوں، عزیزوں، ساتھی کارکنوں اور کمیونٹی کی صحت اور بہبود کو متاثر کرتی ہیں۔ جب لوگ خودکشی سے مرتے ہیں تو ان کے زندہ بچ جانے والے خاندان کے افراداور دوست احباب صدمے، غصے، جرم، ڈپریشن یا اضطراب کی علامات کا شکار ہو سکتے ہیںاور خود بھی خودکشی کے خیالات کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ خودکشی اور خودکشی کی کوششیں سنگین جذباتی، جسمانی اور معاشی اثرات کا باعث بنتی ہیں۔ وہ لوگ جو خودکشی کی کوشش کرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں انہیںشدید چوٹیں لگ سکتی ہیں جو ان کی صحت پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ وہ ڈپریشن اور دیگر دماغی صحت کے خدشات کا بھی سامنا کر سکتے ہیں۔

ڈپریشن کا سب سے زیادہ شدت انگیز نتیجہ خود کشی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔کیونکہ ڈپریشن میں مبتلا فرد کے خودکشی سے مرنے کا امکان ایسے شخص کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ ہوتا ہے جو اس مرض میں مبتلا نہیں ہوتا۔ سماجی اقتصادی چیلنجوں کے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان میں ڈپریشن کی شرح زیادہ ہے۔ ڈپریشن اور دیگر دماغی صحت کے مسائل پاکستان میں اکثر تشخیص نہیں کیے جاتے اور ان کا علاج نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ ملک میں آبادی کی عمومی صحت اور ذہنی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سہولیات ناکافی اور ناقص ہیں۔

خدمات نایاب ہیں اوراگروہ موجود ہوتی ہیں تو ان تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔ وسائل کی تقسیم انتہائی کم ہے اور بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے وسائل کا نمایاں حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ذہنی صحت کے امراض کے علاج کے ساتھ بدنامی کا جو نام نہاد خوف جڑا ہوا ہے وہ ملک میں ذہنی صحت کے مسائل کے علاج کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اگر ہم ڈپریشن کی حامل آبادی کے تناسب کے تناظر میںوطن عزیز کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یونائیڈڈاسٹیٹ انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایولیوشن کے اعدادوشمار کے تجزیہ کے مطابق 2019 میں228 ممالک جن کے اعدادوشمار دستیاب ہیں اِن مماملک میں پاکستان 95 نمبر پر ہے اورملک کی4.09 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔

ڈاکٹر غلام رسول جوبولان میڈیکل کالج اور بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کوئٹہ سے ریٹائرڈ پروفیسر آف سائیکاٹری ہیں۔ اُن کے مطابق ’’ملک میں صرف 2 فیصد ڈپریشن کے مریض علاج کے لئے سائیکاٹرسٹ کے پاس آتے ہیں جبکہ 98 فیصد دیگر ذرائع اور سہولیات سے رجوع کرتے ہیں جن میں مختلف طرح کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، حکیم، دائی اور مولوی صاحب شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے ملک بھر میں موجود 450 کے قریب سائیکاٹرسٹ کی تعداد انتہائی نا کافی ہے۔

جسے ہمارے ملک کے تناظر میں9 ہزار ہو نا چاہئے۔جبکہ ایک آئیڈیل سائیکاٹری ٹیم کے حوالے سے اْن کا کہنا ہے کہ ایک سائیکاٹرسٹ کے ساتھ 4 نرسز، 6 سوشل ورکرز اور4 سائیکالوجسٹ پر مشتمل ٹیم ہونی چاہئے‘‘۔اگر ہم پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں موجود سہولیات کا جائزہ لیں تو اس میں ہماری کسمپرسی کا اظہار عالمی ادارہ صحت کے مینٹل ہیلتھ اٹلس 2020 کے یہ اعدادوشمار کرتے ہیں۔کہ ملک میں فی لاکھ آبادی کے لئے سائیکاٹرسٹ کی تعداد صفراعشاریہ 14 (0.14 ) ہے جبکہ سائیکالوجسٹ کی تعداد فی لاکھ صفر اعشاریہ صفر پانچ (0.05) ہے۔

اسی طرح ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی نرسز کی تعداد فی لاکھ آبادی کے مقابلے میں صفر اعشاریہ صفر 9(0.09) ہے ۔ اور سوشل ورکرز کی تعداد صفر اعشاریہ 28 (0.28) ہے ۔اس طرح ملک میں ذہنی صحت کے تمام طرح کے پرفیشنلز کی تعداد فی لاکھ آبادی کے مقابلے میں صفر اعشاریہ55 (0.55 )ہے جو2014 میں19.15 ہوا کرتی تھی۔جبکہ حکومت صحت پرہونے والے کل اخراجات کا صرف صفر اعشاریہ صفر چار فیصد (0.04%)ذہنی صحت پرخرچ کرتی ہے۔

’’خودکشی بذات خود کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے لیکن خودکشی کیسی بھی ذہنی بیماری کی ایک علامت کے طور پر ہوتی ہے۔ دوسرا سماجی مسائل کے دباؤ کے ردعمل میں بھی ہوتی ہے۔ یعنی یا تو خودکشی کسی ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہے یا پھر کسی بیماری کی علامت‘‘۔ یہ کہنا ہے بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری اینڈ بیہویریل سائنسز کوئٹہ کے ریٹائرڈایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ ڈین فیکلٹی آف سائیکاٹری اینڈ بیہویریل سائنسزبولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس کوئٹہ، پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کا۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق’’ ڈپریشن، bipolar disorder ، شیزوفرینیا (Schizophrenia) ایسی نمایاں ذہنی بیماریاں ہیںجن میں لوگ خود کشی کی طرف چلے جاتے ہیں۔خودکشی کے حوالے سے پہلے سماجی مسائل ہیں پھر ذہنی بیماریاں ہیں ۔

لیکن سننے اور دیکھنے میں آتا ہے کہ 50 فیصد سے زائد خودکشیوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذہنی بیماری ہوتی ہے۔ذہنی بیماریاں تین وجوہات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انسان کی جسمانی یا دماغی ساخت، سائیکلوجیکل رویے یا اثرات اور سماجی وجوہات کی وجہ سے‘‘۔ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ اُن کے مطابق ’’خودکشی کرنے والا یا جنہیں خودکشی کے خیالات آتے ہیں ایسے افراد کاصرف پانچ فیصد اپنے علاج کے لیے کسی ادارے میں جاتے ہیں یاایسے لوگوں کے پاس جاتے ہیں جو ذہنی صحت کے بارے میں کام کرتے ہیں چاہے وہ سائیکائٹرسٹ ہوں یا سائیکالوجسٹ‘‘ ۔کسی فرد کے خودکشی کی طرف جانے کی کیا علامات ہوسکتی ہیں؟ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ خودکشی کے کسی کیسز کی عموماً تین اسٹیجز ہیں۔

پہلے خودکشی کے خیالات کا آنا جن کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کرنا اور کوشش کے نتیجہ میں خود کو ہلاک کرلینا۔ خودکشی کے خیالات اُن لوگوں کو آتے ہیں جن کے آس پاس بہت بڑا سماجی مسئلہ ہوا ہو یا وہ وقت کے ساتھ ساتھ کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔ ایسے افراد میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ ایسا فرد فیملی سے دور ہو جاتا ہے۔ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے۔ پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے۔ کاروبار پر توجہ نہیں دیتا۔ بہت خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اپنے دل کی بھڑاس نہیں نکالتا۔ اُس کی عادتوں اور چہرے پر ہنسی مذاق کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

رونے کی ہسٹری آجاتی ہے ۔ہلکا پھلکا نشہ شروع ہو جاتا ہے ۔چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔ گھر وقت پر نہیں آتا۔ گھر والوں سے دوری اختیار کر لیتا ہے۔ اپنی صفائی اپنے جسم کا خیال نہیں رکھتا خصوصاًبالوں کا ناخنوں کی صفائی کا۔ مایوسی کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ دنیا سے بیزاری کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جس سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ فرد کے رویے میں تبدیلی آگئی ہے اور یہ تبدیلیاں الارمنگ ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں سب کو معلوم ہو جاتی ہیں جو فرد کے قریب ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ failureآ جاتے ہیں جیسا کہ امتحان میں فیل ہوجانا ۔شا د ی کا ناکام ہونا ۔دوستی یا کسی کے ساتھ محبت ہو جائے اس میں ناکامی ہو جانا ۔تو اُس وقت ہم یہ سمجھتے ہیں کہ رد عمل کے طور پر خود کشی ہوسکتی ہے اور ایسے فرد میں یہ علامات شروع ہو جاتی ہیں‘‘۔ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ ’’ایک بندہ جسے خودکشی کے خیالات آتے ہیں وہ یہ خیال کرے کہ دنیا میں کسی مسئلے کا صرف ایک یہ ہی حل موجود نہیں کہ آپ خود کشی کی طرف جائیں۔ متبادل بہت ہیں اس لیے ہر مریض اپنے آپ کو بچا سکتا ہے ۔زندگی کی طرف واپس آئیں ہر سرگرمی میں حصہ لیں ۔ہر نعمت پر اللہ کا شکرادا کریں کے لوگوں کے پاس سہولیات نہیں ہیں اور اللہ تعالی نے آپ کو سہولت دی ہے۔

سب سے اچھے ڈاکٹر امی ،ابو ،بہن ،بھائی ،سہیلی اور دوست ہیں۔خودکشی پر قابو پایا جاسکتا ہے جو مریض سوچتا ہے کہ میرے خودکشی کرنے سے کسی کو سبق مل جائے گا یامیری اس مشکل سے جان چھوٹ جائے گی تو وہ غلط سوچتا ہے۔ لوگ اس کے برعکس ہیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا سوائے آپ کی فیملی اور دوستوں کو۔ اس کے علاوہ ہر مشکل دور کے بعد اچھا وقت ضرور آتا ہے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں‘‘۔اقدام خودکشی کے کسی بھی ممکنہ کیس کو گھر کی سطح پر کیسے روکا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ ’’اس کے لیے ہمیں اپنے ریفرل سسٹم کو مضبوط کرنا ہوگا ۔یعنی اگر گھر کے کسی فرد کے طرزعمل اور رویے میں بتائی گئی تبدیلیاں دیکھیں تو فوراً کسی سائیکاٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ سے رابطہ کریں۔

تاکہ مریض صحیح وقت پر صحیح جگہ اور صحیح ماہر کے پاس پہنچ جائے۔لیکن افسوس ہم ذہنی بیماریوں کو بیماری نہیںسمجھتے ۔ اس کے علاج پر توجہ نہیں دیتے ۔ لوگوں کی باتوں سے ڈر کر اپنے مریض کی حالت کو زیادہ خراب کر لیتے ہیں۔ علاج کی صورت میں بدنامی کا نام نہاد خوف ، ادویات کے بارے میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا اورمختلف توہمات کا شکار رہتے ہیں۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ ذہنی امراض پرنا تو میڈیا میں بات کی جاتی ہے،نا ہی تعلیمی اداروں میںاور نا ہی محراب و منبر سے ۔جب جسم کے ہر حصہ کا علاج کرایا جاتاہے تو کیا دماغ جسم سے باہر کو کوئی حصہ ہے؟ اس کا علاج کیوں نہیں ۔ خود کشی کی روک تھام ایک اجتماعی کوشش ہے ۔

ہیلتھ ،سماجی بہبود ،ایجوکیشن ،مذہبی امور ،آئی ٹی اور ہائر ایجوکیشن ان تمام اداروںکے ایک پیج پر اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے۔ ہر ادارے نے اس کے بارے میں کام کرنا ہے۔ ریڈیو ،ٹی وی اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔ جب آپ شعور بڑھاتے ہیں تو توہمات کم ہوجاتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ خودکشی کی جو کوشش کرتے ہیں وہ گناہگار نہیں ہیں بلکہ انہیں طبی اور سماجی معاونت کی ضرورت ہے‘‘۔

ہمارے معاشرے میںایک اور چیز تیزی سے خودکشی کے کیسز کا باعث بن رہی ہے وہ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیاکے ذریعے بلیک میلنگ کا مکروہ فعل ہے۔اس کے علاوہ معاشی عوامل اور خودکشی کے درمیان بھی ایک گہراتعلق ہے۔ خاص کر بےروزگاری کو ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق بے روزگاری میں 1% اضافہ 65 سال سے کم عمر افراد میں خودکشی کی شرح کو صفر عشاریہ سات نو فیصد ( 0.79% )تک بڑھا سکتا ہے۔ ملک کے موجودہ معاشی حالات، بڑھتی ہوئی مہنگائی،بے روزگاری میں اضافہ اور ملک کے دیوالیہ ہونے کے بارے میں بیان بازی کی بہتات ناجانے کتنی جانیں لے چکے ہوں گے اور کتنوں کو مجبور کر رہے ہوں گے کہ وہ بھی زندگی سے منہ موڑ لیں۔

جہاں تک خودکشی کی روک تھام کا تعلق ہے اس کے لیے کثیر شعبہ جاتی انضمام کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے چار بنیادی اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اول ،خودکشی کے ذرائع تک رسائی کو محدود کرنا (مثلاً کیڑے مار ادویات، آتشیں اسلحہ، بعض ادویات وغیرہ ) دنیا بھر میں ہونے والی خودکشیوں میں سے تقریباً 20 فیصد خود کشی کیڑے مار زہر کے باعث ہوتی ہیں۔جب کے دوسرے عام طریقے پھانسی اور آتشیں اسلحہ ہیں۔ اگرچہ پھانسی پر قابو پانا مشکل ہے ۔لیکن کیڑے مار ادویات اور آتشیں اسلحہ کی دستیابی کو محدود کرنے سے ممکنہ طور پر 50 فیصد خودکشیوں کو روکا جا سکتا ہے۔

دوم ، خودکشی کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے میڈیا کے ساتھ بات چیت۔اس حوالے سے ڈاکٹر ارشد علی ایسوسی ایٹ پروفیسر سنٹر فارمیڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز یونیورسٹی آف گجرات کا کہنا ہے کہ ’’خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے میڈیا دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف غیر ذمہ دارانہ میڈیا کوریج اور جذباتی طور پر تیار کردہ مواد خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے والے رویوں پر مزید منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ دوسری طرف آگاہی مہموں اور صحت کی تعلیم کے ذریعے خود کشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے لیے میڈیا کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

کیونکہ بین الاقوامی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ میڈیا میں خودکشی کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے خودکشی کی شرح میں کمی کو دیکھاگیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے خودکشی کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے کچھ راہنما اصول واضع کیے ہیں۔ جن کے مطابق ’’ اس بارے میں درست معلومات فراہم کریں کہ کہاں سے مدد لینی ہے۔ افواہوں کو پھیلائے بغیر عوام کو خودکشی اور خودکشی سے بچاؤ کے حقائق سے آگاہ کریں۔زندگی کے تناؤ یا خودکشی کے خیالات سے کیسے نمٹا جائے اور مدد کیسے حاصل کی جائے اس کی کہانیاں رپورٹ کریں۔مشہور شخصیات کی خودکشی کی اطلاع دیتے وقت خاص احتیاط برتیں۔

سوگوار خاندان یا دوستوں سے انٹرویو کرتے وقت احتیاط برتیں۔تسلیم کریں کہ میڈیا کے پیشہ ور افراد خود کشی کی کہانیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔خودکشی کی کہانیوں کو نمایاں جگہ نہ دیں اور ایسی کہانیوں کو بے جا نہ دہرائیں۔ ایسی زبان استعمال نہ کریں جو سنسنی خیز یا خود کشی کوnormalizes کرے یا اُسے مسائل کے تعمیری حل کے طور پر پیش کرے۔استعمال شدہ طریقہ کو واضح طور پر بیان نہ کریں۔ سائٹ/مقام کے بارے میں تفصیلات فراہم نہ کریں۔ سنسنی خیز سرخیاں استعمال نہ کریں۔

تصاویر، ویڈیو فوٹیج یا سوشل میڈیا لنکس استعمال نہ کریں۔معلومات کے معتبر ذرائع کا استعمال کریں‘‘۔لیکن ہمارے یہاں ہو کیا رہا ہے اس کا بھی ذکر ضروری ہے۔ مہنگائی،بیروزگاری،سیاسی عدم استحکام نے لوگوں کو چڑچڑا اور ذہنی مریض بنا دیا ہے اور اس پر مستزاد ٹی وی ڈرامے ہیں۔ جہاں بہت اعلیٰ پرتعیش لائف سٹائل دکھایا جاتا ہے ۔ان سارے حالات نے مل کر نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔جس سے ڈپریشن کا شکار لوگ خود کشی کرلیتے ہیں۔ خودکشی کی اور درجنوں وجوہات ہوسکتی ہیں۔لیکن مہنگائی اور بیروزگاری نے جلتی پر تیل کام کیا ہے۔

ہمارے میڈیا میں خودکشی کی رپورٹنگ انتہائی خوفناک طریقے سے کی جاتی ہے۔کہیں لاش کو درخت یا پنکھے سے لٹکتا دکھایا جاتا ہے تو کہیں خون میں لت پت لاشیں دکھا دی جاتی ہیں۔یہ سب غیر اخلاقی ہے۔بعض اوقات تو رپورٹر یا سب ایڈیٹر ایسی خبروں میں اپنے جذبات بھی شامل کرلیتا ہے۔جیسا کہ ایک نوجوان کی خودکشی کی خبر یوں شائع ہوئی۔

بے روزگار نوجوان کی دنیا کے غموں سے جان چھوٹ گئی ۔لاہور پریس کلب کے سیکرٹری اورفیچر رائٹر عبدالمجید ساجد سے جب پوچھا کہ ایسی سرخیاں کیوں نکالی جاتی ہیں۔توعبدالمجید ساجد کاکہنا تھا کہ جب ایک سب ایڈیٹر کی ماہانہ پچیس ہزار تنخواہ ہو گی اور وہ بھی اسے تین ماہ سے نہ ملی ہو تو وہ ایسا غیر معیاری کام ہی کرے گا۔ سینئر جرنلسٹ محسن گورایہ سے جب ایسی سرخیوں کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انکا کہنا تھاکہ بہت سے کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ صحافی صحافت کے میدان میں اترآئے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں تربیت دی جائے‘‘۔سوم ، نوبالغوں(adolescents) میں سماجی جذباتی زندگی کی مہارتوں کو فروغ دینا۔یہ ایسی مہارتیںہیںجونو بالغوں کی اہداف کو حاصل کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں (مثلاً استقامت پیدا کرتی ہیں)، دوسروں کے ساتھ کام کرناسیکھاتی ہیں (مثلاً ملنساری کو فروغ دیتی ہیں) اور جذبات کا نظم کرنا سیکھاتی ہیں(مثلاً خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں)۔سماجی اور جذباتی مہارتوں کا حصول نوجوانوں کی مثبت نشوونما، کردار کی تعلیم، صحت مند طرز زندگی کے رویوں، ڈپریشن اور اضطراب میں کمی، طرز عمل کی خرابی، تشدد، غنڈہ گردی، تنازعات اور غصے میں کمی جیسے عوامل سے جڑا ہوا ہے۔

چہارم ، خودکشی کے رویوں سے متاثر ہونے والے کسی بھی شخص کی جلد شناخت، تشخیص، انتظام اور پیروی کرنا۔اس کا آغاز گھر سے، دوستوں سے ہوتا ہوا سائیکا ئٹرسٹ / سائیکالوجسٹ تک مریض کو لے جانے اور اُس کے علاج کو باقاعدگی سے جاری رکھنے سے عبارت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی جامعہ پنجاب سے جب یہ پوچھا کہ پاکستان میں خودکشی کی نمایاں وجہ ذہنی صحت کے امراض ہیں یا سائیکالوجیکل ایشوازیا اور کچھ تو اُن کا کہنا ہے کہ ’’خودکشی ،موت کی غیر فطری وجہ ہے۔ اکثر سماجی بدنامی کے ڈر سے ہمارے یہاں کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔

لہذا ایسے معاملات کی تشخیص اور ان کا احاطہ کرنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ 80 سالوں کے دوران کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکشی کے رویے تقریباً تمام ثقافتوں، معاشروں اور زندگی کے مختلف مراحل میں پائے جاتے ہیں۔ خودکشی کے رویے کا پیش خیمہ مختلف حالات ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سماجی، ثقافتی اور قانونی تناظر کا ایک پیچیدہ اتصال خودکشی کے عمل کو گھیرے ہوئے ہے۔

پاکستان میں خودکشی کی وجوہات میںنہ صرف خراب ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگروجوہات بھی ہیں جو لوگوں کو خودکشی کی طرف لے جاتی ہیں۔اِن میں بے روزگاری، صحت کے مسائل، غربت، بے گھری، خاندانی تنازعات، ڈپریشن اور سماجی دباؤ شامل ہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ حساس ہوتے ہیں اور وہ سخت معاشرے کا مقابلہ کرنے میں اپنی خود کی مدد نہیں کر پاتے اور یہ ذہنی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ وہ خود کو مزیدقیمتی نہیں سمجھتے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریباً 34 فیصد ذہنی امراض کا شکار ہے۔اس کے علاوہ خودکشی کا جینیاتی تعلق بھی ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ جو خودکشی مکمل کرتے ہیں یا جن کے خودکشی کے خیالات یا رویے ہوتے ہیں ان کی خودکشی کی خاندانی تاریخ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ پھانسی، کیڑے مار دوا کا استعمال اور آتشیں اسلحہ پاکستان میں خودکشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں‘‘۔اگر کوئی آپ کو کہے کہ وہ سوچ رہا ہے کہ خودکشی کرلے یا وہ ایسی باتیں کرے کہ جس سے اُس کی خودکشی میں دلچسپی نمایاں ہوتی ہو تو ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے؟

اس سوال کے جواب میں ــپروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ کو کسی دوست یا خاندان کے رکن کے بارے میں تشویش ہے تو خودکشی کے خیالات اور ارادوں کے بارے میں پوچھنا خطرے کی نشاندہی کرنے کا بہترین طریقہ ہے اس حوالے سے پہلا قدم یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا اس شخص کا خودکشی کے جذبات پر عمل کرنے کا خطرہ ہے۔

اس حوالے سے حساس رہیں۔ اُس سے براہ راست سوالات پوچھیںجیسے، آپ کی زندگی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا آپ کیسے مقابلہ کر رہے ہیں؟۔ کیا آپ کو کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہار مان لی جائے؟۔ کیا آپ مرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟۔ کیا آپ اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟۔ کیا آپ خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ کیا آپ نے پہلے کبھی خودکشی کے بارے میں سوچا ہے یا اس سے پہلے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے؟۔

کیا آپ نے سوچا ہے کہ آپ اسے کیسے یا کب کریں گے؟۔ کیا آپ کے پاس ہتھیا ریا ایسی چیزوں تک رسائی ہے جو خود کو نقصان پہنچانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کی جا سکتی ہیں؟۔خودکشی کے خیالات یا احساسات کے بارے میں پوچھنا کسی کو خود کوختم کرنے کے کام پر مجبور نہیں کرے گا۔بلکہ اُسے احساسات کے بارے میں بات کرنے کا موقع فراہم کرے گا جس سے خودکشی کے جذبات پر عمل کرنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔لیکن آپ کبھی یہ نہیں بتا سکتے کہ کب کوئی عزیز یا دوست خودکشی پر غور کر رہا ہے۔

ہاں کچھ عام علامات ہیں جن کی مدد سے پتا چل سکتا ہے کہ خودکشی کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مثلاًخودکشی کے بارے میں بات کرنا ۔ مثال کے طور پر’میں خود کو مارنے جا رہا ہوں‘، ’کاش میں مر جاتا‘ یا ’کاش میں پیدا نہ ہوتا‘ جیسے بیانات دینا۔ اپنی جان لینے کے ذرائع حاصل کرنا جیسے بندوق خریدنا یا گولیوں کا ذخیرہ کرنا۔ سماجی رابطے سے دستبردار ہونا اور تنہا رہنا ۔ موڈ میں بدلاؤ جیسے کہ ایک دن جذباتی طور پر بلند ہونا اور اگلے دن شدید حوصلہ شکنی۔ مرنے یا تشدد میں مشغول ہونا۔ کسی صورتحال میں پھنسے ہوئے یا نا امیدی محسوس کرنا۔ شراب یا منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال۔ روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی بشمول کھانے یا سونے کے انداز میں تبدیلی۔ خطرناک یا خود کو تباہ کرنے والی چیزیں کرنا جیسے منشیات کا استعمال یا لاپرواہی سے گاڑی چلانا۔ اپنا سامان دینا یا معاملات کوایسے انجام دینا جس کی کوئی منطقی وضاحت نہ ہو۔ لوگوں کو الوداع کہنا گویا اُن سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوگی‘‘۔

خودکشی کی کوشش کرنے والے کسی کیس کو کیسے ڈیل کیا جائے؟اس سوال کے جواب میں ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی جامعہ پنجاب ــپروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق کا کہنا ہے کہ ’’ اگر کسی نے خودکشی کی کوشش کی ہے تو اُس شخص کو تنہا نہ چھوڑیں۔ اپنے مقامی ریسکیوایمرجنسی نمبر پر فوراً کال کریں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ایسا محفوظ طریقے سے کر سکتے ہیں تو اُس شخص کو خود قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں لے جائیں۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آیا وہ شخص الکحل یا منشیات کے زیر اثر ہے یا اس نے زیادہ مقدار لی ہے۔

خاندان کے کسی رکن یا دوست کو فوراً بتائیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ اور اگرآپ نے کسی شخص کو خودکشی کے خیالات کے ساتھ دیکھا ہو تو ہمیں یہ چیزیں کرنی چاہئیں۔ اُسے جذباتی مدد کے لیے وہاں لے جائیںجہاں اُس سے پیار کرنے والے رہتے ہوں۔ اُسے کسی محفوظ جگہ پر لے جائیں جہاں وہ راحت محسوس کرے۔ کچھ ایسا کریں جس سے اُسے سکون ملے۔ موسیقی سننا، پسندیدہ کھانے یا مشروبات کا مزہ لینا، یا اپنے پیارے لوگوں اور جانوروں کی تصاویر (یا ویڈیوز) دیکھنے سے اُسے سکون اور کم پریشانی محسوس کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ہمیں اُس سے کہنا چاہیے کہ وہ خود کی دیکھ بھال پر توجہ دے۔ ہمیں پرسکون رہنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اُسے بتانا چاہیے کہ ہمیں اُس کی پرواہ ہے۔اُس سے بات کرتے رہیںسنیں اوراُس سے سوال پوچھیں۔یاد رکھیں خودکشی کے جذبات عارضی ہوتے ہیں۔

اگر آپ ناامیدی محسوس کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ زندگی مزید جینے کے قابل نہیں ہے۔تو علاج آپ کو اپنا نقطہ نظر دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ اور زندگی بہتر ہو جائے گی۔آپ مطلوبہ علاج کروائیں۔ اگر آپ بنیادی وجہ کا علاج نہیں کرتے ہیں تو آپ کے خودکشی کے خیالات واپس آنے کا امکان ہے۔

دماغی صحت کے مسائل کا علاج کرنے میں آپ کو شرمندگی محسوس ہو سکتی ہے۔ لیکن ڈپریشن، ڈرگز کا زیادہ استعمال یا کسی اور بنیادی مسئلے کا صحیح علاج کروانے سے آپ کو زندگی کے بارے میں بہتر محسوس ہو گا اور آپ کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔ جہاں تک خودکشی کی روک تھام کا تعلق ہے تو اس کے لیے مختلف شعبہ جات کو مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ذہنی صحت اور خودکشی سے بچاؤ کے پروگراموں کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال (primary health care) کے نظام میں ضم کیا جانا چاہیے‘‘۔

مذہب کا وسیع پیمانے پر نفاذ اور مذہبی طریقوں کی پابندی بھی خودکشی کے خلاف ایک حفاظتی عنصر کے طور پرموجود ہے ۔ عیسائیت، اسلام، ہندومت، بدھ مت اور یہودیت سمیت دنیا کے معروف مذاہب خودکشی کے عمل کی مذمت کرتے ہیں ۔ درحقیقت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 2002ء میں رپورٹ کیا تھا کہ خودکشی کی شرح سب سے زیادہ اُن ممالک میں ہے جہاں مذہبی سرگرمیوں پر پابندی یا اُن کی حوصلہ شکنی کی گئی تھی (مثال کے طور پر، سابق سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک) ۔ ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت پر عمل کرنے والے ممالک میں خودکشی کی شرح کم تھی۔

مسلم اکثریتی ممالک میں سب سے کم شرح کی اطلاع دی گئی تھی ۔کیونکہ اسلام خودکشی کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے اور اس عمل کو حرام قرار دیتاہے۔ ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر عقیل احمد خودکشی کی ممانعت کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ’’وجود انسانی اللہ کریم کی عظیم اور حسین نعمتوں میں سے ہے۔

اس کی حفاظت اور نشو ونما کے لیے اللہ تعالی نے کا ئنا ت کو انواع و اقسام کی نعمتوں سے ما لا مال کیا ہے۔ مقاصد شریعہ پر اگر غور کیا جائے تو پانچ امور کی حفاظت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔جو یہ ہیں : ایمان ، جان، عقل، نسب، مال۔ ایمان کے بعد جس شے کی حفاظت لازمی ہے وہ جان ہے اس کی حفاظت کے لیے حرام تک کھانے کی اجازت سے یہ بات ظا ہر ہوتا ہے کہ اللہ کریم کی بارگاہ میں انسانی جان کی کتنی حرمت ہے ہر شخص کو نہ صرف اپنی جان کی حفاظت کرنی ہے بلکہ دوسروں کی جان بچانے میں بھی معاونت کرنا اس کی زندگی کی ترجیحات میں سے ہونا چاہیے اور یہ بات اسلامی بنیادی اقدار میں سے ہے۔

قرآن کریم نے واضح طور پر یہ حکم دیا ہے کہ اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی ایسے کام یا معاملات جن سے جان جانے کا خطرہ ہو ان سے بھی بچنا انتہائی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ہم نہ اپنی مرضی سے یہا ں آئے ہیں نہ اپنی مرضی سے جا ئیں گے اس نے جب چاہا ہمیں عدم سے ہست میں لے آیا اور جب چاہے گا موت دے دے گا۔ اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف لے جا نا یا خودکشی کرنا ایک طرح سے خدائی فیصلوں کو اپنے ہا تھ میں لینے کی کوشش کرنا ہے جو کسی بندے کو بھی زیب نہیں دیتا۔ ایک بندہ جب حالات کی ستم ظریفیوں سے مجبور ہو کر خودکشی کی کوشش کرتا ہے تو دراصل وہ انسانیت کے اس خاص جوہر دلیری، شجاعت اور جواں مردی سے محروم نظر آتا ہے۔ حالات اگر برے ہیں تو اچھے بھی ہوں گے۔ لوگوں کے روئیے اگر نامناسب ہے تو ان پر صبر کا حکم ہے۔

مصائب ، مشکلا ت اور تکا لیف پر برداشت کا مظاہرہ کر کے مثبت انداز سے اپنی جد و جہد جا ری ر کھنا ہی اسلامی اقدار کا تقاضا ہے، نہ کہ بزدلی و بے ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے اپنے آپ کو ختم کر نے کے درپے ہونا۔ خودکشی کو اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ اللہ کی منشا اور رضا کے خلاف ہے اللہ تعالی نے ہر انسان کو دنیا میں ایک خاص وقت تک کے لیے بھیجا ہے اور اس کا ایک خاص کردار ہے خودکشی ان سب سے فرار کی علا مت ہے۔

خود کشی کرنے والا جس انداز سے موت کو گلے لگاتا ہے اس طرح وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا اس کے علاوہ وہ اپنے متعلقین کو ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا کر جاتا ہے۔ اس لیے اپنی اور اپنے اہل خانہ اور دیگر احباب کی جان کی حفاظت ہماری ترجیحا ت میں ہونی چاہیے۔ اللہ کر یم ہم سب کو ایک خوب صورت اور پر سکون زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین

خودکشی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا شاید ممکن نہیں ہے لیکن مختلف قسم کی روک تھام کی حکمت عملیوں سے اس خطرے کو کافی حد تک کم کرنا ممکن ہے۔لیکن ہم نا جانے ایسی حکمت عملیاں کب بنائیں گے؟شاید کہ جب پانی سر سے گزر چکا ہوگا تب کیونکہ ہم ہر کام تاخیر سے کرنے کے عادی ہوچکے ہیں