متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کا پہلا کیس

یو اے ای حکام نے مریض کے بارے میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کیں / رائٹرز فوٹو

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

یہ کیس 24 مئی کو سامنے آیا تھا اور حکام کے مطابق مغربی افریقا سے واپس آنے والی ایک خاتون میں منکی پاکس کی تشخیص ہوئی۔

یو اے ای کی حکومت نے مریضہ کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں مگر حکام نے اس کے رشتے داروں کا معائنہ شروع کردیا ہے جبکہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یو اے ای کے کس حصے میں کیس کو دریافت کیا گیا ۔

یہ یورپ ، امریکا اور آسٹریلیا کے بعد پہلا کیس ہے جو کسی عرب ملک میں سامنے آیا ہے ۔

اب تک مجموعی طور پر 22 ممالک میں منکی پاکس کے کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ مغربی یا وسطی افریقا سے باہر اس وائرس کے اتنے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب سے عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ 20 سے زیادہ ممالک میں 200 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے ۔

27 مئی کو عالمی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ اس حوالے سے ابھی کافی سوالات کے جواب مل نہیں سکے ہیں مگر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ وائرس میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوئی ہو جس کے باعث مختلف ممالک میں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی عہدیدار ڈاکٹر سلویا برائنڈ نے بتایا کہ وائرس کے پہلے جینیاتی سیکونس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ افریقا میں پائے جانے والے وائرس سے مختلف نہیں اور موجودہ کیسز کی ممکنہ وجہ انسانی رویوں میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں افریقا میں کیسز کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ صورتحال کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

مگر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مستقبل قریب میں مزید کیسز سامنے آسکتے ہیں کیونکہ ابھی ہم نہیں جانتے کہ کتنے افراد ایسے ہیں جو اس بیماری سے متاثر ہیں مگر ان کی تشخیص نہیں ہوسکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر چیچک کی روک تھام کرنے والی ویکسین کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، اس کی بجائے وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیے۔

منکی پاکس کیا ہے؟

منکی پاکس دراصل ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 ویرینٹ ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں۔

اس فیملی سے تعلق رکھنے والے وائرس میں ’اسمال پاکس‘ یعنی چیچک بھی شامل ہے اور علامات میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے منکی پاکس کو اس کا کزن بھی کہا جاتا ہے۔

یہ آیا کہاں سے ہے؟

منکی پاس کا نقطہ آغاز افریقا بتایا جاتا ہے۔ منکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جبکہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو طاس کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے۔

دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

اس میں بندر کا کیا کردار ہے؟

منکی پاس کا نام سن کر اگر آپ کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس کے پھیلاؤ میں بندر کی شرارت بھی تو شامل ہے تو آپ کا اندازہ غلط ہے۔

دراصل انسانوں میں منکی پاکس کا کیس سامنے آنے سے سالوں پہلے 1958 میں ڈنمارک کی ایک تجربہ گاہ میں رکھے گئے دو بندروں کو یہ بیماری ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کا نام بھی منکی پاکس پڑ گیا۔

یہ بات طے ہے کہ اس وائرس کا منبع بندر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

بندر نہیں تو پھر کونسا جانور اس وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے؟

سائنس دان حتمی طور پر یہ پتہ نہیں چلا سکے ہیں کہ کون سا جانور منکی پاکس وائرس کا گڑھ ہے تاہم افریقی چوہوں کو اس کے پھیلاؤ کا اصل ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔اگر منکی پاکس کا حامل کوئی جانور کسی شخص کو کاٹ لے، پنچہ مار دے یا انسان اس کے فضلے و تھوک وغیرہ سے تعلق میں آجائے تو وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اور پھر متاثرہ انسان دیگر انسانوں میں اس کے پھیلاؤ کا سسب بنتا ہے۔

اس وائرس کی منتقلی کی شرح کیا ہے؟

امریکی ریاست نیو جرسی کے محکمہ زراعت کی ویب سائٹ پرموجود اعداد و شمار کے مطابق ایک انسان سے دوسرے انسان میں منکی پاکس کی منتقلی کی شرح 3.3 فیصد سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ البتہ کانگو میں وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کی شرح 73 فیصد کے قریب ریکارڈ کی گئی۔

اگر کسی شخص میں منکی پاکس وائرس موجود ہے تو علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی وہ اس وائرس کو دوسرے انسان میں منتقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ عام طور پر متاثرہ شخص کو زیادہ سے زیادہ 21 روز تک دوسرے لوگوں سے میل جول نہیں رکھی چاہیے ورنہ وائرس منتقل ہوسکتاہے۔

متاثرہ شخص میں کیا علامات ظاہر ہوتی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس کی علامات بھی چیچک سے ملتی جلتی ہیں البتہ اس کی شدت چیچک سے کم ہوتی ہے۔

عام طور پر اس کی علامات ایک سے دو ہفتوں کے درمیان سامنے آتی ہیں۔متاثرہ شخص میں پہلے سر درد، بخار، سانس پھولنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر چیچک کی طرح جسم میں دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔مرض کی شدت کے اعتبار سے ان دانوں کے حجم میں فرق ہوسکتا ہے۔ ان دانوں میں پَس بھی موجود ہوتا ہے اور مریض کو بے چینی اور خارش بھی محسوس ہوسکتی ہے۔

کیا منکی پاکس جان لیوا ہے؟

مرض شدت اختیار کرجائے تو منکی پاکس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی جن دو اقسام کا ہم نے ذکر کیا تھا ان میں مغربی افریقی قسم کی شدت کانگو طاس کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقا میں پائے جانے والے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 3.6 فیصد ہے جبکہ کانگو طاس ریجن کے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 10.6 فیصد ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں کم شدت والے منکی پاکس وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

متاثرہ شخص میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص کیسے ہوگی؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی شخص میں منکی پاکس وائرس ہے یا نہیں اسے جانچنے کیلئے مؤثر ترین طریقہ پولی میریس چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ ہے۔ اس مقصد کیلئے متاثرہ شخص کے جسم میں ابھرے دانوں میں بھرے مواد کو بطور نمومہ استعمال کیا جاتا ہے۔

منکی پاکس کی کوئی ویکسین یا مؤثر دوا موجود ہے؟

WHO کے مطابق چیچک سے بچاؤ کی ویکسین عام طور پر منکی پاکس کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ویکسین (MVA-BN) بھی منکی پاکس سے بچاؤ میں معاون ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق Tecovirimat نامی دوا بھی منکی پاکس کو روکنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ چیچک اور منکی پاکس جیسی بیماریوں کیلئے منظور شدہ دوا ہے۔ البتہ ویکسین اور دوا بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہیں اور اگر منکی پاکس کا پھیلاؤ جاری رہا تو اس کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

بچے، بوڑھے اور حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے افراد کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔