فضائی آلودگی کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / اے پی فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / اے پی فوٹو

فضائی آلودگی سے جسمانی صحت پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ماہرین نے اس کے ایک اور بڑے نقصان کو دریافت کیا ہے۔

دنیا کو لاحق اس سنگین مسئلے کے نتیجے میں ہر سال لگ بھگ 10 لاکھ حاملہ خواتین کے ہاں مردہ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔

یہ بات اس حوالے سے ہونے والی پہلی عالمی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یہ تحقیق ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے 137 ممالک میں ہوئی تھی جہاں 98 فیصد مردہ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔

اس سے پہلے یہ تو علم تھا کہ فضائی آلودگی سے مردہ بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے مگر اس تحقیق میں پہلی بار ان اموات کی تعداد کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق میں یہ جائزہ نہیں لیا گیا تھا کہ فضائی آلودگی کے ننھے ذرات کس حد تک مردہ بچوں کی پیدائش میں کردار ادا کرتے ہیں مگر اکتوبر میں ایک تحقیق میں پیدائش سے قبل ہی بچوں کے پھیپھڑوں اور دماغ میں آلودہ ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

محققین نے بتایا کہ فضائی معیار کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے طے شدہ ہدف کو حاصل کرنے سے مردہ بچوں کی پیدائش کی تعداد میں نمایاں کمی لانا ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے طبی نگہداشت کو بہتر کیا گیا ہے مگر ماحولیاتی خطرے کو عموماً نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صاف ہوا کی پالیسیوں کے نفاذ سے اس مسئلے کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے جبکہ حاملہ خواتین کو بھی احتیاطی تدابیر جیسے فیس ماسک کا استعمال اور دیگر پر عمل کرنا چاہیے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 2010 میں دنیا بھر میں 23 لاکھ 10 ہزار مردہ بچوں کی پیدائش ہوئی جبکہ 2019 میں یہ تعداد 19 لاکھ 30 ہزار تھی۔

محققین کے مطابق کچھ ممالک میں فضائی آلودگی کی روک تھام کی کوششوں سے مردہ بچوں کی پیدائش میں ممکنہ کمی آئی۔

یہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں کہ فضائی آلودگی کیوں اس مسئلے کی وجہ بنتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئے۔