یورپ کو سپلائی محدود کرکے روس روزانہ کروڑوں روپے کی گیس جلا کر ضائع کرنے لگا

فن لینڈ کی سرحد کے قریب روسی پلانٹ میں ایسا کیا جارہا ہے / رائٹرز فوٹو
فن لینڈ کی سرحد کے قریب روسی پلانٹ میں ایسا کیا جارہا ہے / رائٹرز فوٹو

یورپ کے مختلف ممالک کے لیے برآمد کو محدود کرنے کے بعد روس قدرتی گیس کی بڑی مقدار  روزانہ جلا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کی سرحد کے قریب موجود روس کے ایک پلانٹ میں روزانہ 84 لاکھ برطانوی پاؤنڈز مالیت کی گیس کو جلا کر ضائع کیا جارہا ہے۔

گیس کی یہ مقدار اس سے پہلے روس جرمنی کر برآمد کررہا تھا۔

سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت زیادہ مقدار میں فضا مٰں پھیل سکتی ہے۔

فن لینڈ کے شہریوں نے موسم گرما کے دوران ایک بڑے شعلے کو روسی سرزمین میں دیکھا تھا  جبکہ محققین کے مطابق اس پلانٹ سے حرارت کے اخراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ویسے تو کسی پلانٹ میں گیس کو اس طرح جلانا غیرمعمولی نہیں مگر روسی پلانٹ میں جتنے بڑے پیمانے پر گیس کو ضائع کیا جارہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

میامی یونیورسٹی کی ایک ماہر ڈاکٹر جیسیکا میکارتھی نے بتایا کہ ہم نے کسی ایل این جی پلانٹ میں اس طرح آگ کو جلتے نہیں دیکھا، اس سلسلے کا آغاز جون سے ہوا اور پھر عروج پر پہنچ گیا، اب بھی روزانہ بہت زیادہ مقدار میں گیس کو اس طرح ضائع کیا جارہا ہے۔