کینیڈا میں خالصتان کیلئے ریفرنڈم، ایک لاکھ سے زائد سکھوں نے حق رائے دہی استعمال کیا

خالصتان ریفرنڈم کے شرکا نے اقوام متحدہ سے آزادی دلانے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ فوٹو: غیرملکی میڈیا
خالصتان ریفرنڈم کے شرکا نے اقوام متحدہ سے آزادی دلانے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ فوٹو: غیرملکی میڈیا

عالمی سطح پر بھارت کو اس وقت بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے کی تمام کاوشیں رائیگاں چلی گئیں۔

کینیڈا میں سکھ کمیونٹی خالصتان کی حمایت میں ریفرنڈم میں حق رائے دہی استعمال کرنے بڑی تعداد میں سڑکوں پر  نکل آئی، ووٹ ڈالنے کے لیے 5 کلو میٹر طویل قطار  لگ گئی، سکھوں نے ووٹ ڈال کر بھارت سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔

ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد سکھوں نے حق رائے دہی استعمال کیا جب کہ ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے سبب قطار میں لگے ہزاروں سکھ ووٹ نہ ڈال سکے۔

خالصتان ریفرنڈم کے شرکا نے اقوام متحدہ سے آزادی دلانے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

رہنما سکھ فار جسٹس گرپتونت سنگھ نے کہاکہ سکھوں کی اتنی بڑی تعداد کا ریفرنڈم میں حصہ لینے سے بھارت کو سکھوں کی سوچ کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ خالصتان پر ریفرنڈم کا آغاز گزشتہ برس 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھا جس کے بعد برطانیہ کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

ریفرنڈم میں اب تک بیرونِ ملک مقیم ساڑھے 4 لاکھ سے زائد سکھ حصہ لے چکے ہیں۔