پیوٹن کا ’دماغ‘ کہلانے والے شخص کی 29 سالہ بیٹی کو کس نے دھماکے سے اڑایا؟

روسی صحافی 29 سالہ دریا ڈوگینا کی گاڑی میں ہفتے کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئی تھیں— فوٹو: فائل

روسی صحافی 29 سالہ دریا ڈوگینا کی گاڑی میں ہفتے کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئی تھیں— فوٹو: فائل

روس نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریب سمجھے جانے والے فلسفی، تجزیہ کار اور اسٹریٹجسٹ الیگزنڈر ڈوگن کی  بیٹی کی ہلاکت کے پیچھے یوکرینی اسپیشل سروسز کا ہاتھ ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق روسی صحافی 29 سالہ دریا ڈوگینا کی گاڑی میں ہفتے کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئی تھیں۔

ان کے والد الیگزنڈر ڈوگن کو ولادیمیر پیوٹن کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور ممکنہ طور پر حملے میں انہیں ہی نشانہ بنایا جانا تھا لیکن ان کی بیٹی زد میں آگئیں۔

یوکرینی حکام نے اس کار بم دھماکے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا ہے تاہم روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس نے پیر کو جاری  اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے اس کیس کو حل کرلیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یوکرین اس میں براہ راست ملوث ہے۔

فیڈرل سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ یوکرینی اسپیشل سروسز نے اس کام کیلئے ایک خاتون کنٹریکٹر کی خدمات حاصل کیں جو جولائی کے وسط میں اپنی کم سن بیٹی کے ساتھ روس آئی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خاتون نے اسی اپارٹمنٹ میں گھر کرائے پر لیا جہاں دریا ڈوگینا رہائش پذیر تھیں تاکہ ان کی زندگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکیں۔ خاتون نے منی کوپر کار استعمال کی جس کی تین مختلف نمبر پلیٹس تھیں۔

الیگزنڈر ڈوگن کو بعض حلقے ولادیمیر پیوٹن کا ’دماغ‘ بھی کہتے ہیں اور دنیا بھر میں پیوٹن کی ساکھ استوار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ سمجھا جاتا ہے— فوٹو: فائل
الیگزنڈر ڈوگن کو بعض حلقے ولادیمیر پیوٹن کا ’دماغ‘ بھی کہتے ہیں اور دنیا بھر میں پیوٹن کی ساکھ استوار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ سمجھا جاتا ہے— فوٹو: فائل

فیڈرل سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مشتبہ خاتون ایسٹونیا فرار ہوگئی۔

خیال رہے کہ ہفتے کی شب الیگزنڈر ڈوگن اور ان کی بیٹی دریا ڈوگینا ماسکو کے قریب ایک فیسٹول میں شریک تھے جہاں الیگزنڈر ڈوگن نے لیکچر دیا تھا۔ تقریب کے بعد دونوں کو ساتھ ایک ہی گاڑی میں روانہ ہونا تھا لیکن عین وقت پر انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔

واقعے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ڈوگینا جو گاڑی چلا رہی تھیں اس کے نیچے بم پلانٹ کیا گیا تھا اور دھماکے سے پوری گاڑی تباہ ہوگئی۔

واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ غمزدہ الیگزنڈر ڈوگن بھی موقع پر موجود ہیں اور ایمرجنسی سروسز کو ریسکیو کا کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ الیگزنڈر ڈوگن کو بعض حلقے ولادیمیر پیوٹن کا ’دماغ‘ بھی کہتے ہیں اور دنیا بھر میں پیوٹن کی ساکھ استوار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔