[ADINSERTER AMP] [ADINSERTER AMP]

پہلی باحجاب آسٹریلوی سینیٹر افغانستان سے ہجرت کی کہانی بتاتے رو پڑیں

27 سالہ فاطمہ پیمان جون میں آسٹریلیا کی سینیٹر منتخب ہوئی تھیں، فوٹو: فائل

 پرتھ: آسٹریلیا میں پہلی باحجاب سینیٹر فاطمہ پیمان پارلیمان میں اپنے اولین خطاب میں افغانستان سے پاکستان اور پھر پرتھ پہنچنے اور اس کے بعد نسل پرستی کا سامنا کرنے کے باعث سیاست میں آنے کی روداد سناتے ہوئے رو پڑیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں اپنے اولین خطاب میں فاطمہ پیمان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت آنے کے بعد ہم لوگ خوف زدہ ہوکر پاکستان چلے گئے۔

بعد ازاں ان کے والد ایک کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے اور چار سال انتھک محنت کے بعد اہل خانہ کو پاکستان سے بلالیا اور پھر ہم سب دوبارہ مل کر رہنے لگے لیکن یہاں مصائب کم نہ ہوئے۔

خاتون سینیٹر نے مزید کہا کہ والد کو آسٹریلیا میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا،  انہیں محنت کی انتہائی قلیل اجرت دی جاتی اور روزگار میں بھی عدم تحفظ تھا۔ مجھے بھی آسٹریلیا میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب بہت غیر یقینی تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ آسٹریلیا نسل پرستی سے آزاد ہوگا۔

27 سالہ فاطمہ پیمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار مجھے آسٹریلیا میں اجنبی کا احساس تب ہوا جب یونیورسٹی میں میرے ایک ساتھی طالب علم نے حجاب کا مذاق اُڑایا گیا اور یہ بھی سننے کو ملتا رہا کہ جہاں سے آئی ہو، وہاں واپس جاؤ۔

جون میں سینیٹر منتخب ہونے والی فاطمہ پیمان نے کہا کہ اس موقع پر میں نے ہار نہ مانی اور سیاسی جدوجہد کا حصہ بنی۔ اس دوران میرے والد کا کینسر کے مرض میں محض 47 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا اور والدہ ہروقت غمزدہ رہنے لگیں۔

سینیٹر فاطمہ پیمان نے کہا کہ میں اپنے والد کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنھوں نے مجھے اتنا اعتماد، حوصلہ اور ہمت دی کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔

خیال رہے کہ فاطمہ پیمان کے دادا افغان پارلیمنٹ کے رکن تھے جب طالبان کی پہلی حکومت بنی اور پورے خاندان کو پاکستان منتقل ہونا پڑا تھا۔