وکی لیکس کے بانی نے امریکا حوالگی کے خلاف برطانیہ میں اپیل دائر کردی

جولین اسانج / رائٹرز فوٹو
جولین اسانج / رائٹرز فوٹو

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے برطانیہ کی جانب سے انہیں امریکا کے حوالے کرنے کے خلاف کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔

51 سالہ جولین اسانج کو جاسوسی کے 17 مقدمات میں 175 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

وکی لیکس کی جانب جاری بیان کے مطابق جولین اسانج کے وکلا نے برطانیہ کی ہائیکورٹ میں امریکا اور برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے جون 2022 میں جولین اسانج کو امریکا کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی۔

جولین اسانج کے وکلا کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے بانی کو ان کے سیاسی نظریات کے باعث سزا دی جارہی ہے۔

ان کی اہلیہ اسٹیلا اسانج کا کہنا ہے کہ جولین اسانج کے خلاف مقدمات غیرقانونی ہیں اور شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے شوہر کے خلاف امریکی کوششیں مجرمانہ ہیں۔

جولین اسانج کے کیس میں کب کیا ہوا؟

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر پروگرامر جولین اسانج نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی اور 2010 میں انہوں نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جب وکی لیکس نے سابق امریکی فوجی چیلسا میننگ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ دستاویزات شائع کیں۔

وکی لیکس نے تقریبا 7 لاکھ 50 ہزار کے قریب خفیہ معلومات افشا کیں جن میں عراق، افغان جنگ اور دیگر عالمی امور نمایاں ہیں۔

خفیہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد امریکا نے جولین اسانج کے خلاف مجرمانہ فعل کی تحقیقات شروع کیں جس کے بعد انہوں نے سوئیڈن میں پناہ لے لی۔

مگر جولین اسانج کے خلاف سوئیڈن میں جنسی حملے کے 2 الگ واقعات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جس پر جولین اسانج نے 2012 میں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لینے کی درخواست دی تھی اور خود بھی سفارتخانے کے اندر ہی مقیم ہوگئے تھے تاکہ برطانوی پولیس انہیں سوئیڈن کے حوالے نہ کرسکے۔

انہیں ڈر تھا کہ اگر انہیں سوئیڈن کے حوالے کیا گیا تو وہاں سے انہیں امریکا بھیج دیا جائے گا۔

امریکا میں جولین اسانج کو جاسوسی کے الزام میں 175 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔

جولین اسانج 2019 میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے اس وقت باہر نکلے جب سفارت خانے نے جولین اسانج کی پناہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

سفارتخانے سے باہر نکلنے پر لندن پولیس نے انہیں ضمانت سے بچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جس پر ایک عدالت نے قید کی سزا سنائی۔

برطانوی ہائی کورٹ نے 2021 میں جولین اسانج کو امریکا کےحوالےکرنےکاحکم دیا تھا جس کے خلاف جولین اسانج نے برطانوی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

تاہم مارچ 2022 میں برطانوی سپریم کورٹ نے جولین اسانج کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

اس کے بعد امریکا کے حوالے کرنے کے عمل شروع ہوا جس کے بعد جون میں برطانوی وزیر داخلہ نے منظوری دے دی۔