بھارت میں مودی سرکار نے گھر میں نماز پڑھنا بھی جرم بنا دیا

بھارتی پولیس نے دو مسلم گھرانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، فوٹو: فائل

نئی دہلی: بھارتی ریاست اترپردیش میں نماز کے لیے جمع ہونے پر مقامی ہندوؤں نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور پولیس نے ان جنونیوں کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہی مقدمہ درج کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے شہر مراد آباد میں نماز کے لیے درجنوں افراد جمع ہونے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ مقامی ہندو آبادی نے اعتراض اُٹھایا کہ علاقے میں مسلمانوں کے صرف دو گھر ہیں اور کوئی مسجد بھی نہیں تو نماز جمعہ کے لیے اتنے افراد کہاں سے جمع ہوگئے۔

چھاجلیٹ پولیس تھانے میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ 24 اگست کو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوکر مسجد کے بجائے گھر میں نماز کی ادائیگی کی تیاری کر رہے ہیں۔ جس پر پولیس نے دونوں گھروں کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

جنونی ہندوؤں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے اور مقدمہ درج کرانے کے بعد ان گھروں کے مالکان اپنا سارا سامان چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے جب کہ مشتعل ہندو ان گھروں کے آس پاس منڈلا رہے ہیں۔

مسلم رکن اسمبلی اسدالدین اویس کا کہنا ہے کہ بھارت کے مسلمان اب گھروں میں بھی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ کیا اب نماز پڑھنے کے لیے بھی حکومت یا پولیس سے اجازت لینا ہوگی؟ نریندر مودی کو اس کا جواب دینا چاہیے، کب تک ملک کے مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جائے گا؟

واضح رہے کہ اس سے قبل بھوپال کے ایک شاپنگ مال میں نماز کی ادائیگی پر کرنے انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔ لکھنؤ کے ایک مال میں بھی نماز پڑھنے پر نمازیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔