بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں نے برطانوی شہریوں کو کم کھانے پر مجبور کردیا

یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی / فائل فوٹو

برطانیہ میں 50 لاکھ افراد اپنے گھروں کے بلوں کی ادائیگی کے لیے غذا کے کم استعمال پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یہ بات ایک فلاحی ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی۔

منی ایڈوائس ٹرسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران اپنے گھروں میں بجلی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر 9 میں سے ایک بالغ برطانوی شہری نے ایک وقت کھانا نہیں کھایا۔

اسی طرح ہر 5 میں سے ایک بالغ فرد کم از کم ایک بل کی ادائیگی کرنے سے قاصر رہا۔

برطانیہ میں 2022 کے دوران گیس اور بجلی کے بلوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور 20 فیصد افراد کے مطابق اپریل کے بعد سے بلوں میں ہر ماہ اوسطاً 100 برطانوی پاؤنڈز کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے 14 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ بلوں کی ادائیگی کے لیے گھریلو سامان کو فروخت کرنے پر مجبور ہوئے، جبکہ ہر 5 میں سے 2 افراد نے غیرضروری اخراجات کی کٹوتی کی۔

محققین کے مطابق بیشتر گھرانوں کو مشکل انتخاب کرنا پڑ رہے ہیں، جیسے بجلی کو بحال رکھنے کے لیے دن کے کونسے وقت کی غذا سے گریز کیا جائے۔

خیال رہے کہ روس کی جانب سے گیس سپلائی محدود کیے جانے کے بعد سے یورپ بھر میں توانائی ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔