ایران میں پولیس کی حراست میں لڑکی کی ہلاکت پر مختلف شہروں میں ہنگامے

فوٹو: ٹوئٹر

فوٹو: ٹوئٹر

ایران میں پولیس کی حراست میں لڑکی کی ہلاکت پر دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔

22 سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت پر تہران، مشہد اور  شیراز سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، مظاہرین نے جلاؤگھیراؤ کیا اور سڑکیں بلاک کر دیں۔

 پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں 15 افراد کو گرفتارکرلیا گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ایک پولیس اہلکار سمیت 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خیال رہےکہ گزشتہ ہفتے تہران میں اسکارف نہ پہننے پر مہسا امینی کو حراست میں لیا گیا تھا، حراست کے دوران مہسا امینی مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنےکے باعث انتقال کر گئی تھی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے تہران میں کرد لڑکی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف ہنگاموں میں بعض غیرملکی سفارت خانوں اور اداروں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔