صرف چند ماہ کی حیات والے مریض کو نئی دوا نے کینسر سے نجات دلادی

موت کےدہانے پر موجود رابرٹ گلین اب نئی امیونوتھراپی کے بعد کینسر کو شکست دے چکے ہیں۔ فوٹو: بی بی سی

موت کےدہانے پر موجود رابرٹ گلین اب نئی امیونوتھراپی کے بعد کینسر کو شکست دے چکے ہیں۔ فوٹو: بی بی سی

 لندن: سرطان کےشکاراپنی آخری سانسیں لیتے مریض نے امیونوتھراپی کی نئی دوا آزمائی اور اب وہ کینسر سے مکمل طور پر پاک ہوچکے ہیں۔

51 سالہ رابرٹ گلین کو صفراوی نالی (بائل ڈکٹ)کا کینسرلاحق تھا جو آخری درجے کو پہنچ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں صرف 12 ماہ کی مہلت دی تھی۔ تاہم وہ ان خوش نصیبوں میں شامل ہوگئے ہیں جن پر مانچسٹر کی ایک کمپنی کرسٹی نے اپنی نئی امیونوتھراپی آزمانی تھی۔

سال 2020 میں رابرٹ کے کندھے کا شدید درد اٹھا جو ہر روز مزید تکلیف دہ ہوتا گیا جس کے لاتعداد طبی ٹیسٹ کئے گئے اور آخرکارجگر سے پتے تک صفرا لانے والی نلی میں سرطان کا انکشاف ہوا ۔ یہاں تک کہ وہ مرض  کے آخری درجے پر تھے جس کےبعد صرف موت کی منزل ہوتی ہے۔

ان کے سرطان کا پورا نام انٹراہیپٹک بائل ڈکٹ کینسر ہے جس کے مریض اگرچہ کم ہیں لیکن مشکل سے ہی دو چار سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس صدمے سے وہ مایوس رہنے لگے اور وزن 31 کلوگرام کم ہوگیا۔ کرسٹی کمپنی نے ایک بالکل نئی امیونوتھراپی کو کیموتھراپی کے ساتھ آزمایا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔

رابرٹ کےجگر کی سرطانی رسولی 12 سینٹی میٹر سے کم ہوکر صرف ڈھائی سینٹی میٹر رہ گئی جبکہ ایڈرینل گلینڈ کی رسولی 7 سینٹی میٹر سے سکڑ کر چاراعشاریہ ایک سینٹی میٹر تک پہنچ گئی۔ صرف ایک سال سے زائد عرصےمیں وہ روبہ صحت ہونے لگے اور اب تین ماہ کے مسلسل ٹیسٹ نے تصدیق کی ہے کہ وہ سرطان سے مکمل طور پر پاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب کرسٹی سے وابستہ پروفیسر جوآن ویلے نے کہا کہ اسی نئی تھراپی کی آزمائش دنیا بھر میں جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ ایک انقلابی دریافت ثابت ہوگی۔