’شریعت کا نفاذ اہم ترین لیکن مسلح جدوجہد جائز نہیں‘

مسلمانوں کے مختلف مکتبہ فکر میں سود سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے، بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے: مفتی تقی عثمانی۔ فوٹو فائل

مسلمانوں کے مختلف مکتبہ فکر میں سود سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے، بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے: مفتی تقی عثمانی۔ فوٹو فائل

معروف عالم دین اور  شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ ملک سے سود کی لعنت کے خاتمے کے لیے ہم سب کو متفقہ طور پر  آواز بلند کرنی ہے۔

کراچی میں حرمت سود کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے مختلف مکتبہ فکر میں سود سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے، بلاسود بینکاری کو عملی طور پر لاگو کیا جائے، سود کی لعنت کو ختم کرنے کےلیے متفقہ طور پر آواز بلند کرنی ہے۔

مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء سیمینار میں شریک ہیں، شریعت کا نفاذ اہم ترین معاملہ ہے لیکن اس کے لیے مسلح جدوجہد کی جائز نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سیمینار کا مقصد حکومت، متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرنا ہے کہ سود کے خاتمے کے لیے عملی کوشش کرنی چاہیے، نظریاتی اختلافات کا دائرہ علمی حلقوں تک محدود رہنا چاہیے، ایسا فورم وجود میں آنا چاہیے جس میں سلگتے ہوئے مسائل پر متفقہ مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

قبل ازیں قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی سلیمان چاؤلہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ تاجر برادری سود کو حرام سمجھتی ہے لیکن پاکستان 40 فیصد رقم سود دیتا ہے، بینکس میں اسلامی بینکاری سہولت کو مکمل طور پر لاگو کیا جائے۔