شادی شدہ ہونا لاعلاج دماغی بیماری سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

شادی شدہ جوڑوں میں ڈیمینشیا اور دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ اکیلے یا طلاق یافتہ افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔

یہ بات ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نارویجن انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں معمر افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا۔

44 سے 68 سال کی عمر کے 8706 افراد کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا گیا اور پھر کئی برس تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ تنہا، طلاق یافتہ یا شادی شدہ ہونے سے ڈیمینشیا اور دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ کس حد تک کم ہوتا ہے۔

ڈیمینشیا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج ابھی موجود نہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شریک حیات کا ساتھ دماغی تنزلی سے بچانے میں اہم ثابت ہوتا ہے جبکہ تنہا افراد میں دماغی امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیا تھا کہ تنہائی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والا اہم عنصر ہے، خاص طور پر مردوں میں۔

مگر اس تحقیق میں مردوں اور خواتین دونوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق کے دوران 11.6 فیصد افراد میں ڈیمینشیا کی تصدیق ہوئی جبکہ 35.3 فیصد کے دماغی افعال میں معمولی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ جوڑوں میں دماغی تنزلی یا ڈیمینشیا کی شرح سب سے کم تھی جبکہ غیر شادی شدہ افراد میں یہ شرح سب سے زیادہ تھی۔

تحقیق کے مطابق شادی شدہ افراد میں ڈیمینشیا کا خطرہ 6 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

مگر یہ خطرہ کم کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی محققین جان نہیں سکے۔

انہوں نے بتایا کہ درمیانی عمر میں شادی شدہ ہونے اور بڑھاپے میں ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق دریافت ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تنہا یا طلاق یافتہ افراد میں ڈیمینشیا کیسز کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف ایجنگ اینڈ ہیلتھ میں شائع ہوئے۔