سردیوں میں نزلہ زکام عام کیوں ہوجاتا ہے؟ سائنسدان پہلی بار وجہ جاننے میں کامیاب

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی / فائل فوٹو
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی / فائل فوٹو

سائنسدان پہلی بار یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ موسم سرد ہونے پر لوگ فلو اور موسمی نزلہ زکام کے شکار زیادہ کیوں ہوتے ہیں۔

ویسے تو یہ سب کو معلوم ہے کہ جب ہوا سرد ہوتی ہے تو نزلہ زکام یا فلو وغیرہ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

حالانکہ نزلہ زکام یا فلو کا باعث بننے والے جراثیم ہر موسم میں موجود ہوتے ہیں اور گرمی میں بھی لوگ ان امراض سے متاثر ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے سائنسدانوں کے ذہن میں یہ سوال موجود تھا کہ آخر درجہ حرارت کم ہونے پر اچانک نزلہ زکام یا فلو سیزن کا آغاز کیوں ہوجاتا ہے۔

اب جاکر سائنسدان اس کی حیاتیاتی وجہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ وجہ سرد ہوا ہے۔

امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد ہوا انسانی ناک میں جراثیموں کے خلاف کام کرنے والے مدافعتی ردعمل کو کمزور کردیتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ پہلی بار ہمارے پاس اس سوال کا جواب دینے کے لیے وضاحت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرد درجہ حرارت میں ہمارا مدافعتی ردعمل محدود ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ درجہ حرارت میں محض 5 ڈگری سینٹی گریڈ کمی سے بھی ہمارے ناک کے اندر وائرس اور بیکٹریا سے لڑنے والے لگ بھگ 50 فیصد مدافعتی خلیات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ سرد ہوا اور وائرل انفیکشن کے درمیان تعلق موجود ہے کیونکہ درجہ حرارت میں معمولی کمی سے بھی ہماری مدافعتی قوت 50 فیصد گھٹ جاتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نظام تنفس کے امراض کا باعث بننے والے جراثیم ناک پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ناک میں موجود خلیات ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسمانی مدافعتی خلیات مائیکرو آر این اے سے لیس ہوتے ہیں جو حملہ آور جراثیموں کا خاتمہ کرنے میں مدد فراہم کرنے والا جز ہے اور ناک کے خلیات میں مائیکرو آر این اے کی مقدار 13 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

تحقیق کے دوران 4 افراد کو 15 منٹ کے لیے 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ میں رکھا گیا اور پھر ناک کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جب ہمیں سرد ہوا کا سامنا ہوتا ہے تو ناک کا درجہ حرارت بہت زیادہ کم ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی دفاعی نظام بھی مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔

ان کا تو کہنا تھا کہ معمولی ٹھنڈک بھی ناک کے اندر 42 فیصد کے قریب مدافعتی خلیات کو ناکارہ بنانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔

اسی طرح مائیکرو آر این اے کی مقدار میں لگ بھگ 50 فیصد کمی آتی ہے جس کے نتیجے میں سرد موسم میں نزلہ زکام یا فلو سے لڑنے کی مدافعتی صلاحیت بھی آدھی رہ جاتی ہے۔

محققین کے مطابق فیس ماسک اس معاملے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف ہوا میں موجود جراثیموں کی روک تھام کرتا ہے بلکہ ناک کو گرم بھی رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ اپنی ناک کو جتنا گرم رکھیں گے، مدافعتی نظام اتنا زیادہ بہتر طریقے سے کام کرے گا، تو نتائج سے فیس ماسک کے استعمال کا ایک اور فائدہ ثابت ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ لیبارٹری میں انسانی ٹشوز پر ہونے والی تحقیق ہے اور حقیقی زندگی میں ابھی تحقیقی کام نہیں ہوا ، تو نتائج کی تصدیق کے لیے مزید کام کرنا ہوگا۔

اس تحقیق کے نتائج دی جرنل آف الرجی اینڈ کلینیکل امیونولوجی میں شائع ہوئے۔